Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel Crisis

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر سیلی نیبنزیا نے کہا، 'امریکہ نے بھان متی کا پٹارا  کھول دیا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا نئی آفات لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس نے امریکا کو ثالثی کی پیشکش کی لیکن امریکی رہنما مذاکرات میں بالکل دلچسپی نہیں رکھتے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ غزہ میں ہونے والی تباہی پر ہندوستان کی خاموشی اور اب ایران کے خلاف کشیدگی میں بلا اشتعال اضافہ ہماری اخلاقی اور سفارتی روایات سے انحراف ہے۔ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔

اسرائیل اورایران کے درمیان چل رہی جنگ کے درمیان ہندوستان کا ایک گاؤں اچانک سرخیوں میں چھا گیا ہے۔ اس گاؤں کا اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی کے ساتھ رشتہ ہے۔ آئیے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

آئی ڈی ایف نے کہا کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے منصوبے کو نقصان پہنچانے کی اپنی کارروائی کے تحت تہران میں ایس پی این ڈی کے ہیڈ کوارٹر کی عمارت پر بھی حملہ کیا گیا۔ IDF نے کہا، ’’SPND ہیڈکوارٹر کو ایران کی فوجی صلاحیتوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی تحقیق اور ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جسے 2011 میں ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے بانی فخری زادہ نے قائم کیا تھا۔‘‘

ان کے علاوہ جنگ میں استعمال ہونے والے گولہ بارود، لڑاکا طیارے اور لاجسٹک سپورٹ سسٹم بھی اخراجات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اسرائیلی شہروں پر میزائل حملوں سے بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔

ایران کے ذریعہ اسرائیل کے بیرشیبا کے سوروکا اسپتال پرکئے گئے حملے کے بعد اسرائیل کے وزیردفاع نے ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای پرسیدھا حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ وزیردفاع کیٹز کے مطابق ایران نے جنگی جرم کیا ہے اوراس کے لئے راست طورپر آیت اللہ علی خامنہ ای ذمہ دارہیں۔ ہم اب ان کو ہی ختم کردیں گے۔

صہیونی اخبار یدیعوت آحارونوت نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے وسیع پیمانے پر میزائل حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کی معیشت تقریباً مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی-7 سربراہی اجلاس درمیان میں ہی چھوڑکرچلے گئے۔ اب انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون پر بھی تنقید کی ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک ایران کے 14 جوہری سائنسدان ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایران اب اس جنگ سے پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی کوئی حد نہیں کہ وہ اس جنگ کو جیتنے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں،