Bharat Express DD Free Dish

Haryana Police

Nuh Violence: مقامی پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے فرقہ وارانہ تشدد کے ملزمین کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ اس ضمن میں روہنگیا مسلمانوں کی طرف سے کی گئی تعمیر کو غیرقانونی قرار دے کر کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔

جو کچھ نوح میں ہوا اسے کسی طرف سے اچھا نہیں کہا جائے گا۔ اس کی وجہ سے دونوں فرقوں کے ذہنوں میں ایک دوسرے کے تئیں جو شک پیدا ہوا ہے وہ خطرناک ہے۔کیونکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی تشدد میں بدلنے کی ماضی کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔

 نوح تشدد کے بعد جمعہ کے روز صبح انتظامیہ نے تاؤڑوعلاقے میں 200 سے زیادہ جھگیوں پر بلڈوزر چلا دیا۔ اس تعمیری کام کو غیرقانونی بتایا جا رہا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہاں بنگلہ دیشی روہنگیا غیرقانونی طریقے سے رہ رہے تھے اور تشدد میں شامل تھے۔ کئی نوجوانوں کا نام ایف آئی آر میں درج ہے۔

Juma Namaz in Nuh: نوح کی جامع مسجد کے امام مولانا مفتی زاہد حسین نے نوح تشدد میں ہوئی گرفتاریوں سے متعلق کہا کہ پولیس نے غلط لڑکوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

خبروں کے مطابق، ہریانہ کے پانی پت علاقے میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی، جس کی وجہ سے حالات کشیدہ ہوگئے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات کو کنٹرول کرلیا ہے اور پورے علاقے کو بند کردیا ہے۔

ہریانہ کے نوح میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں اب تک مونو مانیسر اور بٹو بجرنگی جیسے کلیدی ملزمان کا نام سامنے آچکا ہے۔ لیکن ایک اور بڑا نام سامنے آیا ہے جو پیشے سے وکیل بھی ہے ، لیکن وہ مونو مانیسر کے ساتھ اکثر دیکھا جاتا رہا ہے۔ اور جس نے حالیہ فساد میں نلہر شیو مندر کے اندر سے پولیس کی موجودگی میں مسلم بستی پر فائرنگ کی تھی جس کی ویڈیو اب منظرعام پر آگئی ہے۔

ہریانہ میں شوبھا یاترا کے بعد ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کو پولیس اب تک پوری طرح روکنے میں پولیس ناکام ہوئی ہے۔ ہریانہ حکومت نے بدھ کو مرکزی اہلکاروں کی چار مزید کمپنیاں مانگی ہیں۔

ہریانہ کے نوح میں 31 جولائی کوبجرنگ دل اور وی ایچ پی کی شوبھا یاترا کے دوران ہوئے فرقہ وارانہ تشددد کے 20 ملزمین کو ہریانہ پولیس عدالت میں پیش کرنے پہنچی ہے۔ پولیس ان کے ریمانڈ کا مطالبہ کرے گی۔

نوح تشدد کے درمیان وزیراعلیٰ منوہرلال کھٹر نے کہا کہ حکومت سبھی کو سیکورٹی نہیں دے سکتی ہے۔ انہوں نے مونو مانیسر کی گرفتاری سے متعلق بھی بیان دیا ہے۔

ہریانہ تشدد کے بعد حالات کو معمول پرلانے کے لئے انتظامیہ اور پولیس کوششوں میں مصروف ہے۔ اسی درمیان نوح میں 3 بجے سے شام 5 بجے تک بازارکھولنے کا حکم دیا گیا ہے۔