Bharat Express DD Free Dish

Haryana Police

بادشاہ کے وکیل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خواتین کمیشن کی طرف سے ایک مقررہ وقت دیا گیا تھا۔ لیکن بادشاہ نے پہلے ہی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کر کے لوگوں سے معافی مانگی تھی اور کہا تھا کہ ان کا کسی کی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

ہریانہ پولیس کو قتل کے ایک سنگین مقدمے میں مطلوب اور طویل عرصے سے مفرور ملزم سومبیر موٹا کو امریکہ سے ڈی پورٹ کروا کر بھارت واپس لایا گیا ہے۔ اس آپریشن کو انٹرپول کے ریڈ نوٹس، وزارتِ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے مؤثر تال میل سے انجام دیا گیا، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

یوم جمہوریہ  کی پیشگی شام فرید آباد میں امیری کا نشہ قانون پر بھاری پڑ گیا۔ شراب کے نشے میں دھت نوجوانوں نے پولیس چوکی کے اندر نوٹوں کی گڈیاں اچھال کر خاکی کی توہین کی، تاہم پولیس نے فوری طور پر سخت کارروائی کی ہے۔

ہریانہ کے ضلع جھجر میں ایک دل دہلا دینے والا سڑک حادثہ پیش آیا جس نے پورے علاقے کو غم اور خوف میں مبتلا کر دیا۔ جھجر۔ریواڑی روڈ پر سِلانی بائی پاس کے قریب ایک اوورلوڈ ٹرک بے قابو ہو کر ایک آلٹو کار کے اوپر پلٹ گیا، جس کے نتیجے میں کار میں سوار پانچ افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

ہریانہ  پولیس نے مالی سال 2024-2025 میں سائبر فراڈ کے معاملات سے 100 کروڑ روپے کی ریکوری کی ہے۔ پورے ملک میں اسی مدت میں 22,800 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان رپورٹ ہوا، جو گزشتہ سال کے مقابلے تقریباً 40 فیصد زائد ہے۔

ہریانہ پولیس کی تاریخ بہت صاف ستھری نہیں ہے۔ پورن کمار خودکشی کیس کے درمیان، جیل جا چکے تین سابق ڈی جی پی کے بارے میں کافی بحث ہو رہی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ معاملہ کیا تھا؟

ہریانہ پولیس ڈپارٹمنٹ میں آئی پی ایس افسر وائی پورن کمار کی خودکشی کا معاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوا تھا کہ اب روہتک میں ایک اور پولیس افسر نے اپنی جان دے دی۔ روہتک سائبر سیل کے انچارج اے ایس آئی سندیپ لاٹھر نے خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی۔

وائی پورن کمار کی اہلیہ امنیت پی کمار، جو ایک سینئر آئی اے ایس افسرہیں، موجودہ وقت میں ہریانہ کے وزیراعلیٰ نائب سنگھ سینی کے ساتھ جاپان میں ہیں۔ پولیس افسران اس خود کشی کے اسباب کی تلاش کر رہے ہیں۔ ابھی تک کسی بھی سوسائڈ نوٹ کی جانکاری نہیں ملی ہے۔

سماجی تنظیم ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران گڑگاؤں میں 200 سے زائد افراد کو غیرقانونی طورپرحراست میں لیا گیا ہے۔ زیادہ ترافراد کا تعلق مغربی بنگال سے ہے اوریہ لوگ دہائیوں سے تعمیرات، گھریلوکام، فیکٹریوں، صفائی، ری سائیکلنگ اور ڈرائیوری جیسے شعبوں میں کام کرکے شہرکی معیشت میں اہم کردارادا کررہے ہیں۔

اسدالدین اویسی نے پولیس کی کارروائی پرسوال کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے کئی حصوں میں پولیس بنگالی بولنے والے مسلم شہریوں کو حراست میں لے رہی ہے۔ پولیس کی طرف سے الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ بنگلہ دیشی ہیں۔ بندوق کی نوک پربنگالی لوگوں کو بنگلہ دیش بھیجنے والی خبریں پریشان کررہی ہیں۔