Bharat Express DD Free Dish

Hamas

حماس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں بے دفاع شہریوں کو وحشیانہ نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، اور الشطی کیمپ، المواسی اور رفح میں نئے قتل عام کیے ہیں۔

صلاح الدین روڈ جنوبی غزہ کے ایک شہر رفح کے جنوب سے گزرتی ہے جہاں اسرائیلی افواج اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل رفح کو فلسطینی جنگجو گروپ حماس کا آخری گڑھ سمجھتا ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ جنگ کے بعد بنگلہ دیش میں کوکا کولا کی فروخت میں تقریباً 23 فیصد کمی آئی ہے۔ حالیہ مہینوں میں پورے صفحے کے اخباری اشتہارات سے لے کر نیوز ویب سائٹس پر نمایاں جگہوں تک کمپنی نے ملک میں اپنی اشتہاری مہم کو تیز کر دیا ہے۔

مسجد اقصیٰ کمپلیکس جسے یہودیوں میں ٹمپل ماؤنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے، مسلمانوں اور یہودیوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ اس حوالے سے دونوں کے درمیان ایک طویل مدت سے تنازعہ چل رہا ہے۔

رپورٹ میں 7 اکتوبر کو ہونے والے تشدد اور گزشتہ سال کے اختتام کے درمیان کے وقت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ تنازعہ کے دوران دونوں فریقوں کی جانب سے حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور جرائم کی وسیع رینج کو نمایاں کرتا ہے۔

ہفتہ کے روز غزہ میں محکمہ صحت کے حکام کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 36,801 ہو گئی ہے جب کہ 83,680 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایگر نے کہا کہ ہمارا بنیادی کام طبی امداد فراہم کرنا، پانی کی فراہمی بحال کرنا اور لوگوں کو ہنگامی مدد فراہم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہم غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کی حمایت کرتے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ رفح میں بے گھر افراد کے لیے ایک کیمپ قائم کیا گیا جہاں اسرائیل نے حملہ کیا۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 35 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

اتوار کے روز حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر دعویٰ کیا کہ یہ راکٹ صیہونی شہریوں کے قتل عام کے جواب میں داغے گئے۔

اقوام متحدہ کے ایلچی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس اس فیصلے کو نافذ کرنے کا اختیار ہے، لیکن اسرائیل کو امید ہے کہ اس کے اہم اتحادی امریکہ، اقوام متحدہ کی باڈی میں اسے ویٹو کر دے گا۔