Bharat Express DD Free Dish

Gyanvapi Masjid Case

انجمن انتظامات مسجد کمیٹی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ کے دن اپنی دکانیں اور کاروبار بند رکھیں اور خصوصی "جمعہ" کی نماز ادا کریں۔ تنظیم کے جنرل سکریٹری عبدالبتین نعمانی نے ایک اپیل میں کہا، 'وارنسی کے ضلع جج کے فیصلے کی بنیاد پر گیان واپی مسجد کے جنوبی تہہ خانے (ویاس تہہ خانے) میں پوجا شروع ہو گئی ہے۔

گیان واپی مسجد کے تہہ خانہ میں پوجا کا اختیار دیئے جانے کے انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی نے بند کا اعلان کیا ہے۔ بند کے اعلان سے پولیس انتظامیہ محتاط ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد سے شہر میں پولیس فورس بڑھا دی گئی ہے۔

گیان واپی کے تہہ خانہ میں پوجا کا حق ملنے کے بعد سے ہندو فریق نے پوجا شروع کردی ہے۔ وہیں مسلم فریق نے پوجا رکوانے کے لئے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

دو دن پہلے ہی ہندو تنظیم نے گیان واپی مسجد کے سائن بورڈ پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔ اس سے متعلق محکمہ سیاحت کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو بھی خط لکھا تھا۔

گیان واپی مسجد میں سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں اوربڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان کی موجودگی میں پوجا کی رسم ادا کی جا رہی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ پوجا کرنے پہنچ رہے ہیں۔

وارانسی کورٹ کے جج اجے کرشن وشویش نے بدھ کے روز یعنی 31 جنوری کو گیان واپی مسجد احاطے میں موجود تہہ خانہ میں ہندوؤں کو پوجا کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ عبادت گاہوں کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا، "جج صاحب کی ریٹائرمنٹ کا آج آخری دن تھا، 17 جنوری کو ایک ریسیور مقرر کیا گیا تھا، اس نے پورے کیس کا فیصلہ کیا

حال ہی میں گیان واپی مسجد کی سروے رپورٹ سامنے آئی تھی، جس میں ہندو فریق کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسجد کے تہہ خانہ میں مورتیاں ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ جبکہ مسلم فریق نے سروے پر سوال اٹھائے ہیں۔

گیان واپی مسجد کی 839 صفحات پرمشتمل اے ایس آئی رپورٹ سے متعلق مسلم فریق کی طرف سے انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی کے وکیل اخلاق احمد نے ریسیو کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو فریق ایکسپریٹ نہیں ہے، جو کسی بلڈنگ کو دیکھ کر بتا سکے کہ پتھر کتنا پرانا ہے۔ ایسا اے ایس آئی کی رپورٹ میں بھی نہیں لکھا ہے۔

آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی سروے رپورٹ کی بنیاد پرکہا جا رہا ہے کہ یہاں بنائے گئے مندر کو گرا کرمسجد کی تعمیرکی گئی ہے۔