Bharat Express DD Free Dish

Gyanvapi Masjid Case

محکمہ آثار قدیمہ یعنی اے ایس آئی نے فاسٹ ٹریک کورٹ میں رپورٹ داخل کی ہے۔ رپورٹ سول جج سینئر ڈویژن فاسٹ ٹریک کورٹ میں داخل کی گئی۔

ایودھیا پران پرتشٹھا کے بعد کاشی اور متھرا کے معاملات میں آنے والے ردعمل کے بارے میں محمد یاسین نے کہا، 'کچھ لوگوں کی بھوک مسلسل بڑھ رہی ہے۔ وہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔

ہندو فریق نے اپنی درخواست میں کہا کہ تالاب میں مچھلیاں 12 سے 25 دسمبر 2023 کے درمیان مر گئیں۔ جس کی وجہ سے بدبو آنے لگی ہے۔ عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وہاں موجود ’ مبینہ شیولنگا‘ ہندوؤں کے لیے بہت مقدس ہے۔

ہندو فریق نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ وضوخانہ کے پورے علاقے کو صاف کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہاں صفائی برقرار رکھی جاسکے۔ اس سلسلے میں عدالت سے وارانسی کے ضلع مجسٹریٹ کو وضوخانہ کی صفائی کی ہدایت دینے کو کہا گیا تھا۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے گیان واپی مسجد اور متھرا شاہی عید گاہ سے متعلق کہا کہ ہمیں سروے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، ہمیں مکمل یقین ہے کہ اگر ایمانداری سے سروے ہوا تو وہاں سے کچھ بھی نہیں نکلے گا، لیکن اب جس طرح یہ نیا تنازعہ کھڑا کیا گیا، وہ 1991میں عبادت گاہوں کے تحفظ پر پارلیمنٹ کے ذریعہ لائے گئے قانون کے منافی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ایک مقدمے میں کئے گئے اے ایس آئی سروے کو دوسرے مقدمے میں بھی داخل کیا جائے گا اور اگر ٹرائل کورٹ کو لگتا ہے کہ کسی بھی حصے کا سروے ضروری ہے تو عدالت اے ایس آئی کو سروے کرنے کی ہدایت دے سکتی ہے۔

گیان واپی پرآج وارانسی کی ضلع عدالت میں اے ایس آئی کی سروے رپورٹ پیش کردی گئی ہے۔ اس سے پہلے مسلم فریق نے عدالت میں عرضی داخل کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ رپورٹ کو سیل بند لفافے میں پیش کیا جائے۔

ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے بتایا کہ وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ کی ہدایت پر اے ایس آئی کو آج عدالت میں رپورٹ پیش کرنی تھی۔ تاہم زیادہ  بی پی کی وجہ سے سینئر اے ایس آئی افسر کی طبیعت ناساز ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے 1 ہفتے کا مزید وقت مانگا گیا ہے۔

وارانسی کی عدالت میں دائر سوٹ کی برقراری کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ اصل مقدمے میں اس جگہ پر مندر کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا جہاں اس وقت گیانواپی مسجد موجود ہے۔

اے ایس آئی 4 اگست سے گیان واپی مسجد احاطے کے سیل بند حصے کو چھوڑکر بیریکیڈ والے علاقے میں سروے کر رہا ہے۔ شرنگارگوری-گیان واپی کیس کی مدعی نمبر2 سے 5 تک چار خواتین نے گزشتہ ہفتے ایک عرضی دائرکی تھی