Bharat Express DD Free Dish

Gaza Under Attack

اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کا کہنا ہے کہ وسطی غزہ پٹی میں المغازی پناہ گزین کیمپ میں یو این آر ڈبلیو اے کے اسکول کو نشانہ بنانے سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حماس اسرائیل کی جنگ اپنا دائرہ بڑھاتے چلی جارہی ہے اب نہ صرف اسرائیل غزہ پٹی پر اندھا دھند زمینی  وفضائی حملے کررہا ہے بلکہ لبنان پر بھی حملے تیز کرچکا ہے ۔ لبنان میں  اسرائیل کی طرف سے میزائل حملے ہونے اور کچھ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے اس بیچ کل امریکی صدر بائیڈن اسرائیل اور اردن کا دورہ کرنے والے ہیں۔

81 فیصد شرکا نے اس بیان سے اتفاق کیا کہ اسرائیل کو حماس کے خلاف اپنے انتقامی حملوں میں شہریوں کو ہلاک کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور 19 فیصد نے اس بیان سے اختلاف کیا۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا کہ اسرائیل کا فرض ہے کہ وہ اپنے عوام کو حماس اور دیگر گروپ سے محفوظ رکھے اور مستقبل میں ہونے والے حملوں کو روکے۔

اسرائیلی فوج اب حماس کے کارکنان کے خاتمے کے لیے غزہ میں زمینی آپریشن شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم اسرائیل کے لیے زمینی حملہ آسان نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ غزہ میں حماس کی خفیہ سرنگیں ہیں جنہیں 'موت کے کنویں' قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ہمیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ فلسطین کی آبادی کی ایک بڑی تعداد کا حماس کے حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ بائیڈن نے کہا کہ ان امریکی خاندان کے افراد کا سراغ لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جن کے بارے میں ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

اویسی نے اس دوران میڈیا پر بھی طنز کسا انہوں نے کہا کہ میڈیا یک طرفہ کارروائی دکھا رہا ہے جب کہ دونوں طرف سے حملے ہو رہے ہیں اور لوگ مارے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ کسی کو نظر نہیں آتا۔

ہندوستانی سفارت خانے نے کہا تھا کہ ہفتہ کو بین گوریون ہوائی اڈے سے دو خصوصی پروازیں روانہ ہوگی۔ پہلی پرواز مقامی وقت کے مطابق شام 5:40 پر روانہ ہوئی۔

حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ نے یہ بھی کہا کہ اس جنگ میں بوڑھوں، بچوں، خواتین اور نہتے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ فلسطین کی سرزمین کم کر دی گئی، اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کو امن سے رہنے کی اجازت دینے کی بھی اپیل کی۔ میرواعظ نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جو کچھ ہو رہا ہے جموں و کشمیر کے لوگ بھی دیکھ رہے ہیں۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس پر پوسٹ کیا، 'سعودی عرب کے وزیر خارجہ کے ساتھ حماس-اسرائیل تنازعہ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔' خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق وزیر خارجہ نے جمعہ کو سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے بات کی۔