Bharat Express DD Free Dish

Gaza-Israel War

ترک وزارت تجارت نے کہا کہ انقرہ نے اس سے قبل اپریل میں اسرائیل کو 54 پروڈکٹ کو گروپس کی برآمدات پر پابندی عائد کر دی تھی ،کیونکہ اسرائیلی حکومت نے بین الاقوامی جنگ بندی کی کوششوں کو نظر انداز کیا تھا

فلسطینی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے جنگجوؤں کے مہلک حملوں سے شروع ہونے والے تنازع میں تقریباً 80 ہزار گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی بربریت میں 35 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اجلاس میں ہندوستان کی مستقل نمائندہ روچیرا کمبوج نے کہا کہ ہندوستان دو ریاستی حل کی حمایت کرنے کے لیے پرعزم ہے، جہاں فلسطین کے لوگ محفوظ سرحدوں کے اندر ایک آزاد ملک میں رہ سکیں گے۔

کئی کالج کیمپس میں طلبہ گروپوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ کچھ یونیورسٹیوں نے کہا کہ طلباء کے احتجاج میں باہر کے لوگ بھی شامل ہو گئے ہیں اور پریشانی پیدا کر دی ہے۔

حماس کے ایک سربض رہنما الحیہ نے کہا کہ تحریک اسرائل کے ساتھ پانچ سال یا اس سے زیادہ کی جنگ بندی پر رضامندی کے لےس تایر ہے۔ اگر اسرائل سنہ1967ء کی سرحدوں پر آزاد فلسطیما ریاست قبول کرنے کے لےم تا ر ہے تو حماس اپنا عسکری ونگ ختم کردے گے اور ہتھاار پھنکا کر سابست مںب کام کرے گی۔

ہالا رہررِٹ امریکی سفارت کاروں کے اس سلسلے میں تازہ ترین ہیں جو غزہ پر بمباری جاری رکھنے پر اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پرتنقید کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے دستبردارہوگئے ہیں۔ اسرائیلی فوجی مہم 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

غزہ اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ سال اکتوبر سے مسلسل جنگ جاری ہے۔ اس کے بعد سے پاکستان میں فلسطین کی حمایت میں کئی پرتشدد مظاہرے دیکھے گئے ہیں۔

چند ایام قبل اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں اپنی خونی کاروائیاں  ختم کرتے ہوئے خان یونس شہر کو چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد عالمی ادارہ صحت کی ٹیم یہاں پہنچ گئی ہے۔

11 روز قبل شام میں ایرانی قونصلیٹ پر حملے کے بعد ایران نے اس کے لئے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اس کے بعد سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تہران جلد ہی اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے۔

سید جلال الدین نے کہا کہ حماس سے جنگ تھی تو ہوتی اور جو جنگی قوانین ہیں ان پر عمل کیا جاتا لیکن گریٹر اسرائیل بنانے کا خواب لیے اسرائیل غزہ میں نسل کشی پر آمادہ ہے۔