Bharat Express

Jamaat-e-Islami Hind welcomes UN resolution: جماعت اسلامی نے اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت میں ہندوستان کی ووٹنگ کا کیا خیر مقدم

سید سعادت اللہ حسینی نے اس اہم قرارداد پرووٹنگ میں بھارت کی عدم شرکت پراپنی مایوسی کا اظہارکیا ہے اورکہا ہے کہ بھارت ہمیشہ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرنے اوراسرائیل کے استعماری مظالم کی شدید مخالفت کرنے والی ایک نمایاں آوازرہا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند نے فلسطین میں اسرائیلی حملوں کے خلاف اقوام متحدہ کی قرارداد کے حق میں ہندوستان کی ووٹنگ کا خیرمقدم کیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے صدرسید سعادت اللہ حسینی نے میڈیا کو ایک بیان میں کہا کہ ہم حکومت ہند کی طرف سے فلسطین میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی قرارداد کے حق میں ووٹ دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ مشرقی یروشلم اورمقبوضہ شامی گولان سمیت ‘مقبوضہ فلسطینی علاقے’ میں اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیوں کی مذمت کے لئے 145 ممالک کے ساتھ ووٹنگ کرکے ہندوستان نے صحیح پیغام دیا ہے کہ وہ فلسطینی اراضی پرغیر قانونی قبضے اورزبردستی الحاق کے خلاف ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان ہمیشہ فلسطینی کازکا حامی رہا ہے اوراسرائیلیوں کے ذریعہ ان کی سرزمین پر ناجائز قبضے کے خلاف فلسطینیوں کی جائز جدوجہد میں حمایت کرتا رہا ہے۔”

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ آزادی حاصل کرنے، قبضے اورنسل پرستی کے خاتمے کے لئے فلسطینیوں کی جدوجہد ہندوستان کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہے اورہم ان کی مکمل حمایت کرنے کے پابند ہیں۔ ہم حکومت ہند سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ خطے میں امن قائم کرنے، دشمنی اورغیرقانونی قبضے کے خاتمے کے لیے فعال اور قائدانہ کردار ادا کرے۔

اس سے قبل امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کا خیرمقدم کیا تھا، جس میں غزہ پٹی میں فوری طورپردیرپا، پائیداراور’انسانی بنیادوں پر جنگ بندی‘ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ امیرجماعت اسلامی نے دستخط کرنے والے ممالک پرزوردیا ہے کہ وہ اس قرارداد کے فوری نفاذ کو یقینی بنائیں۔ لاکھوں فلسطینیوں کی خوراک، پانی، طبی امداد، مواصلات اوربجلی سے محرومی اورہزاروں معصوم جانوں کا المناک نقصان، وقت کا سب سے بڑا انسانی بحران ہے، جوبین الاقوامی برادری سے ٹھوس عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کی اہم قرارداد پرووٹنگ میں بھارت کی عدم شرکت پراپنی مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت ہمیشہ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرنے اوراسرائیل کے استعماری مظالم کی شدید مخالفت کرنے والی ایک نمایاں آوازرہا ہے۔ ہندوستان کے تاریخی ریکارڈ میں 1947 میں اسرائیل کے قیام کے خلاف ایک اہم ووٹ اورفلسطین کے حق میں کئی فیصلہ کن ووٹ شامل ہیں۔ اس اصولی موقف کو، ہرپارٹی کی حکومت نے برقراررکھا ہے اورحالیہ بحران کے دوران حکومت ہند کی طرف سے بھی فلسطینی کازکی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔
اس ریکارڈ کے ساتھ، اس اہم ووٹنگ سے بھارت کا غیرحاضررہنا چونکا دینے والا اورانتہائی مایوس کن ہے اوریہ بھارت کے عوام کے اخلاقی موقف کی نمائندگی نہیں کرتا ۔ یہ انتہائی بدبختانہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ہمارے نمائندوں نے استعماری مغربی ممالک کے ساتھ اتحاد کرنے اورپورے عالمی جنوب، جنوبی ایشیا کے تمام ممالک اوربرکس جیسی ابھرتی ہوئی سامراج مخالف طاقتوں سے الگ تھلگ ہونے کا انتخاب کیا ہے۔ یہ عدم مطابقت اورالجھن ہمارے لئےعالمی جنوب کا ایک طاقتورلیڈربننے کا ایک بڑا موقع گنوا دینے کا باعث ہے۔

  -بھارت ایکسپریس