Bharat Express DD Free Dish

Gaza Genocide

واضح رہے کہ قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی میں غزہ میں جنگ بندی مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق قاہرہ میں جنگ بندی مذاکرات آج دوبارہ شروع ہوں گے۔حماس نے مذاکرات کاروں کے وفد کو قاہرہ بھیجنے کی تصدیق کر دی ہے جبکہ اسرائیل نے اپنا وفد بھیجنے کی ابھی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

سید جلال الدین نے کہا کہ حماس سے جنگ تھی تو ہوتی اور جو جنگی قوانین ہیں ان پر عمل کیا جاتا لیکن گریٹر اسرائیل بنانے کا خواب لیے اسرائیل غزہ میں نسل کشی پر آمادہ ہے۔

حملے کے فوراً بعد سائپرس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ امدادی سامان کے ساتھ بھیجے گئے جہاز واپس لوٹ رہے ہیں اور تقریباً 240 ٹن امدادی سامان جہاز سے نہیں اتارا جا سکا۔

صدر کی ڈیموکریٹک پارٹی کو خدشہ ہے کہ بائیڈن کے لیے مسلمانوں کی کم ہوتی حمایت ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

بائیڈن انتظامیہ ان الزامات کو مسترد کرتی ہے کہ اسرائیل منظم طریقے سے غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہا ہے۔ اس سال کے شروع میں، اس نے بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں جنوبی افریقہ کی درخواست کو اسرائیل پر نسل کشی کا الزام بے بنیاد قرار دیا تھا۔

کونسل کے 10 منتخب اراکین کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کو روس اور چین کی حمایت حاصل ہے، یہاں تک کہ دونوں ممالک نے جمعہ کے روز غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی امریکی قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔

حماس نے کہا کہ اس نے ثالثوں کو غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو روکنے،  امداد فراہم کرنے، غزہ کے بے گھر لوگوں کی ان کے گھروں کو واپسی، اور اسرائیلیوں افواج کی واپسی پر مبنی ایک جنگ بندی کا ایک جامع وژن پیش کیا۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد الثانی کی صدارت میں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کی۔وزرا نے فوری جنگ بندی کے حصول اور انسانی، خوراک اور طبی امداد کی فراہمی کے لیے امدادی راہ داریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال میں محمود فتوح نامی 2 ماہ کا بچہ غذائی قلت کے باعث انتقال کر گیا ہے۔وفا نیوز ایجنسی کے مطابق بچے کی موت اس وقت ہوئی جب اس کے لیے دودھ اور بنیادی سامان نہ مل سکا۔

حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے غزہ کی پٹی پر فوجی حملہ کیا جس میں 28000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے۔