Bharat Express DD Free Dish

Dr ST hasan

اتر پردیش کے مرادآباد ضلع میں سماج وادی پارٹی کے بلاری اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی محمد فہیم عرفان اور ان کے اہلِ خانہ کو بڑا انتظامی اور سیاسی جھٹکا لگا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے جانچ کے بعد فہیم عرفان اور ان کے خاندان کے ذات کے سرٹیفکیٹس کو جعلی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد نہ صرف ان کی قانونی مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ممتا بنرجی نے بدھ کے روز الیکشن کمیشن کو ’واٹس ایپ کمیشن‘ قرار دیا تھا۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر ایس ٹی حسن نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن ایس آئی آر کے ذریعے ووٹروں کے نام کاٹنے کا کام کر رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے حالیہ بیان میں حلال سرٹیفیکیٹ پر اٹھائے گئے سوالات پر ایس ٹی حسن نے صاف ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان صرف حلال گوشت ہی استعمال کر سکتے ہیں۔ جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے یا جسے حلال نہ کیا گیا ہو، اس کا گوشت ہمارے لیے حرام ہے۔ یہ ہماری مذہبی روایت ہے، جسے کوئی نہیں روک سکتا۔

ایس ٹی حسن نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت، فوج، پولیس اور وسائل ہندو قیادت کے پاس ہیں تو پھر ’ہندو خطرے میں‘ کا نیریٹیو کیسے بنتا ہے؟ انہوں نے مسلمانوں کے عقیدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اللہ پرای بھروسہ رکھتے ہیں اور ہندو بھائیوں کے ساتھ ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں گے تو انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ میں کس بات کو لے کر معافی مانگوں؟ کیا میں ملحد ہوں؟ کیا میں خدا کو نہیں مانتا؟ میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ میرے بیان کو غلط طریقے سے توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے جو بالکل غلط ہے۔ ایسے میں معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ایس پی لیڈر نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس مسئلہ پر بھی ایسا ہی رویہ اپنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر مذہبی عقیدے کا احترام کرنا ہے، تو دونوں قسم کی دکانوں پر یکساں اصول لاگو ہوں۔ صرف نان ویج دکانوں کو بند کرنا اور شراب کی فروخت جاری رکھنا عقل مندی نہیں ہے۔‘‘

ایس ٹی حسن نے کہا کہ اعظم خان ان کے قابل احترام لیڈر ہیں، لیکن ریاستی حکومت نے ان پر جھوٹے مقدمات لاد کر جیل میں ڈال دیاہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی صدر اکھلیش یادو نے اعظم خان کے لیے بہت کچھ کیا، لیکن اسے عوامی طور پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔

سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ایس ٹی حسن نے کہا کہ ہمیں اس معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔ میں ایک بات کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر ایسا ہوا تو کچھ لوگوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انتظامی افسران کو غیر قانونی طریقے سے کسی بھی قسم کی تعمیرات نہیں کرانے چاہیے۔

سابق ایم پی ڈاکٹر ایس ٹی حسن نے کندرکی اسمبلی سیٹ پر ایس پی کی جیت کا دعویٰ کرتے ہوئے بی جے پی پر طنز کیا ہے۔ ایس پی لیڈر نے کہا کہ کندرکی اسمبلی سیٹ ایک روایتی سماجوادی سیٹ ہے۔ اس علاقے کے ہندو اور مسلمان ایس پی کو ووٹ دیتے ہیں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ ایس پی بھاری فرق سے جیتنے والی ہے۔

سماج وادی پارٹی لیڈر نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن ایمانداری سے انتخابات کرائے تو سماج وادی پارٹی اس بار زیادہ تر سیٹیں جیتنے والی ہے۔