Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ اگر میں یہ الیکشن نہیں جیت پاتا ہوں اوراگرایسا ہوتا ہے تواس میں یہودی لوگوں کا بڑا رول ہوگا کیونکہ اگر 60 فیصد عوام دشمن کو ووٹ دیتے ہیں تو میری رائے میں دوسال کے اندر اسرائیل کا وجود ختم ہو جائے گا۔

بائیں بازو میں خوف پیدا کرنے کی پرانی حکمت عملی کو دہراتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا، ’’وہ (کملا ہیرس) ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہوں گی۔ ہمیں اپنے ملک کو بچانا ہے، ہم کھیل نہیں کھیل سکتے۔ اسی لیے ہم ایک مارکسسٹ کمیونسٹ کو صدر نہیں بنا سکتے۔‘‘

ریپبلکن پارٹی کی انتخابی مہم کے ترجمان سٹیون چیونگ نے ایک بیان میں کہا: ’ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اردگرد چلنے والی گولیوں کے بعد محفوظ ہیں، جب کہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے اپنے سیاسی حریف کے خطرے سے باہر رہنے پر خوشی کا اظہار کیا۔

غیر قانونی امیگریشن کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ "غیر قانونی امیگریشن کے حوالے سے میرا رویہ ہمیشہ سخت رہا ہے۔ بطور صدر میں نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سختی کا مظاہرہ کیا تھا۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی سے کملا ہیرس اور ریپبلکن پارٹی سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ میدان میں ہیں۔ حال ہی میں امریکی پنسلوانیا کے شہر فلاڈیلفیا میں دونوں کے درمیان صدارتی مباحثہ ہوا۔

ٹرمپ کو نشانہ بناتے ہوئے نائب صدر نے کہا، ’’انہوں نے افغان حکومت کو سائیڈ لائن کیا، اس نے طالبان نامی ’دہشت گرد‘ تنظیم سے براہ راست مذاکرات کیے، اس معاہدے کی وجہ سے طالبان کو 5000 دہشت گرد مل گئے۔ دہشت گردوں کو رہا کر دیا گیا۔‘‘

صدارتی مباحثے میں یوکرین اور فلسطین کا مسئلہ بھی آیا۔ غزہ میں جاری جنگ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ اب بھی امریکی صدر ہوتے تو یہ جنگ شروع نہ ہوتی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 'کملا ہیرس اسرائیل سے نفرت کرتی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان پنسلوانیا کے نیشنل کانسٹی ٹیوشن سینٹر میں امریکی صدارتی مباحثہ ختم ہو گیا ہے۔ بحث کے دوران روس یوکرین جنگ کا معاملہ  کافی حاوی رہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جو بائیڈن کو بطور صدر نشانہ بنایا تو کملا ہیرس کی جانب سے سخت جوابی حملہ آیا۔

یہ اس انتخابی مہم کی دوسری بحث ہے لیکن کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان یہ پہلی بحث ہوگی، کیونکہ اس قبل پہلی بحث جون میں ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان ہوئی تھی۔

ان کی واحد ناکامی 2000 میں ہوئی، جب انہوں نے پیشن گوئی کی کہ ال گور جارج بش کے خلاف جیت جائیں گے اور تکنیکی طور پر وہ وہاں بھی صحیح تھے، یہ دیکھتے ہوئے کہ گور نے پاپولر ووٹ جیتا تھا اور انتخابی ووٹ کا فیصلہ امریکی سپریم کورٹ نے کیا تھا۔