Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ایڈرین بیومونٹ نے کہا کہ امریکہ میں معاشی ڈیٹا بہتر ہوا ہے اور افراط زر میں کمی آئی ہے، کملا ہیرس اس سے براہ راست فائدہ اٹھا سکتی  ہیں۔ اس کے علاوہ انتخابات کے وقت بائیڈن کی عمر 82 سال ہوچکی ہے، جب کہ کملا ہیرس کی عمر 60 سال ہو گی۔

آج یعنی بروز منگل یہ خبر ملی کہ امریکی سیکرٹ سروس کی ڈائریکٹر کمبرلی چیٹل مستعفی ہوگئیں ہیں ۔امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کمبرلی چیٹل گزشتہ روز کانگریس کمیٹی میں پیش ہوئی تھیں اور ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے میں سیکیورٹی ناکامی قبول کی تھی۔

بائیڈن نے 'X' پر ایک پوسٹ میں کہا، "آج میں کملا ہیرس کو اس سال اپنی پارٹی کا امیدوار بنانے کے لیے اپنی مکمل حمایت اور تعاون دینا چاہتا ہوں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی متحد ہو کر ٹرمپ کو شکست دے"۔

سابق امریکی صدر نے گزشتہ روز یوکرینی صدر زیلنسکی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین اور روس کی جنگ میں بے شمار معصوم لوگ مارے گئے۔ٹرمپ کہنا ہے کہ انہوں نے یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ان سے وعدہ کیا۔

صحافی مارک ہالپرین نے کہا کہ ذرائع کے مطابق صدر جو بائیڈن ڈیموکریٹک امیدوار کے عہدے سے دستبردار ہونے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ حالانکہ وہ نائب صدر کملا ہیرس کو اپنے جانشین کے طور پر حمایت نہیں کریں گے۔

جے ڈی وینس نے کہا، برطانیہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے والا پہلا اسلامی ملک بن جائے گا۔ انہوں نے برطانیہ کی نئی حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ لیبر پارٹی کے انتخابات میں کامیابی کے بعد برطانیہ پہلا اسلامی ملک بن سکتا ہے، جو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

نائب صدر عہدہ کے امیدوار جے ڈی وینس کا ایک بیان سرخیوں میں بنا ہوا ہے۔ وینس نے کہا کہ برطانیہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے والا پہلا اسلامی ملک بن جائے گا۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ لیبرپارٹی کو مسلمانوں کو اچھی حمایت ملتی ہے۔

نیویارک ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق 39 سالہ وینس نے 2016 میں ہلبیلی ایلیجی کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جس کے بعد وہ کافی چرچہ میں آگئے۔ نائب صدارتی امیدوار جے ڈی وینس کا بھی ہندوستان سے خاص تعلق ہے۔

ریپبلکن پارٹی کے رہنما اس حملے کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیں گے، کیونکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر جو بائیڈن کے خلاف پہلے ہی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ساتھ ہی کئی رہنما یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ انہیں اپنی صحت کی وجہ سے الیکشن نہیں لڑنا چاہیے۔

گولی ٹرمپ کے کان کو چھوتی ہوئی نکل گئی جس کی وجہ سے ان کے کان سے خون بہنے لگا۔ اس حملے میں ایک شہری کی موت ہو گئی، جب کہ دو دیگر شدید زخمی ہو گئے۔