Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’Truth Social‘‘ پر لیکس فریڈمین کے ساتھ وزیر اعظم مودی کا پوڈکاسٹ شیئر کیے جانے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد وزیر اعظم مودی نے ٹرمپ کے اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنا اکاؤنٹ کھول لیا ہے۔

ریاستہائے متحدہ کی حکومت کے تعاون سے چلنے والے میڈیا نیٹ ورک وائس آف امریکہ کے ڈائریکٹر مائیکل ابرامووٹز نے کہا کہ ہفتے کے دن ہمارے 1,300 سے زیادہ صحافیوں، پروڈیوسرز اور معاون عملے کو چھٹی پر بھیج دیا گیا۔ ابرامووٹز نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ’’یہ میرے لیے تکلیف دہ ہے کہ 83 سالوں میں پہلی مرتبہ وائس آف امریکہ کو خاموش کیا جا رہا ہے۔‘‘

ادھرامریکی سینٹرل کمانڈ نے اتوار کو اعلان کیا کہ یمن میں حوثی گروپ کے خلاف اس کی کارروائیاں جاری ہیں۔کمانڈ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اپنے جنگی جہازوں اور لڑاکا طیاروں سے حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کے ویڈیو کلپس شائع کیے۔

امریکی صدر نے 13 فروری کو واشنگٹن ڈی سی میں پی ایم مودی کی میزبانی کی۔ ان کا یہ دورہ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں اپنی دوسری مدت کے آغاز کے تین ہفتوں کے اندر ہوا ہے۔ دو روزہ دورے کے دوران، وزیر اعظم نریندر مودی نے بلیئر ہاؤس میں قیام کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری بار امریکی صدر بننے کے بعد سے امریکا اور کینیڈا کے درمیان اختلافات اپنے عروج پر ہیں۔

ٹرمپ پہلے یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ اگر وہ صدر ہوتے تو یوکرین کی جنگ کبھی شروع نہ ہوتی۔ انہوں نے یوکرین کی جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا منصوبہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو وہ جلد جنگ ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ نے احتجاج پر قابو پانے کے لیے مداخلت کی اور تقریباً 100 مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہوں نے خامنہ ای کو ایک خط بھیجا ہے، جس میں جوہری مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی ہے، لیکن ساتھ ہی متنبہ کیا ہے کہ ’ایران سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں، ایک فوجی کارروائی، دوسرا آپ جوہری ہتھیاروں کو ترک کرنے کا معاہدہ کرلیں۔

حماس نے امریکی صدر کے اس تازہ ترین بیان کا خیر مقدم کیا  ہے۔ حماس کے  ایک عہدیدارقاسم نے  کہا کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات غزہ کے لوگوں کی نقلِ مکانی کے کسی بھی خیال سے دستبرداری کی نمائندگی کرتے ہیں تو ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

بارتھوال نے کہا کہ ہندوستان آزاد تجارت کے لیے ہے اور اس کا لبرلائزیشن چاہتا ہے جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیرف کی جنگ کسی مقصد کو پورا نہیں کرے گی۔