Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے ایرانی سفیر کاظم جلالی کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق صورتحال کے حل کے لیے بین الاقوامی کوششوں پر تبادلہ خیال کیاہے۔

یہ نیا اقدام صدر ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران لگائی گئی پابندیوں کی یاد دلاتا ہے، جب انہوں نے سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر سفری پابندی عائد کی تھی۔ یہ پالیسی مختلف مراحل سے گزری اور بالآخر 2018 میں امریکی سپریم کورٹ نے اسے برقرار رکھا۔

واشنگٹن نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اسرائیل کے مشورے سے فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ براہ راست خفیہ رابطے کئے۔ ٹرمپ کا نیا موقف سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پرسامنے آیا ہے۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی پوری طرح سے متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیزیں بالکل سوچ کے مطابق ہو رہی ہیں اور اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہماری مصنوعات پر چین کا اوسط ٹیرف ہماری مصنوعات سے دو گنا زیادہ ہے اور جنوبی کوریا کا اوسط ٹیرف چار گنا زیادہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر اس دن آئی جب کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف اور 10 فیصد اضافی ٹیرف نافذ ہوا۔

بدھ کے روز ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کے ریمارکس کی تعریف کرنے سے انکار کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے اسے ’بہت افسوسناک‘ قرار دیا اور کہا، ’’میں اپنے سامنے ڈیموکریٹس کو دیکھتا ہوں، اور مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں ان کو خوش کرنے یا انہیں کھڑا کرنے یا مسکرانے یا تالیاں بجانے کے لیے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میں کچھ نہیں کر سکتا۔

اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے 100 ایگزیکٹو آرڈرز کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، "میں نے چھ ہفتے قبل عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک تقریباً 100 ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے ہیں

زیلنسکی نے کہا کہ جمعہ کو واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں ان کی اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات اس طرح نہیں ہوئی جس طرح ہونی چاہیے تھی۔

چین پر ٹیرف کو دوگنا کرنے سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر 3 مارچ کو اعلان کیا کہ منگل 4 مارچ سے میکسیکو اور کینیڈا سے درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

یوکرین میں ہماری لچک اس بات پر مبنی ہے کہ ہمارے شراکت دار ہمارے لیے اور ہماری سلامتی کے لیے کیا کر رہے ہیں۔