Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

حماس ثالثوں اور ٹرمپ کے ایلچی کی کوششوں سے نرمی سے نمٹی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ حماس متوقع مذاکرات کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے ۔ جنگ بندی کے معاہدے پر رضامندی اور اس کے دوسرے مرحلے میں جانے کی ذمہ داری اسرائیل کی ہے۔

ٹرمپ نے وفاقی ملازمتوں کو کم کرنے کے لیے اپنی انتظامیہ کی حکمت عملی کا بھی دفاع کیا، فیڈرل ورک فورس کو کم کرنے کے لیے ’ہتھوڑے‘ کے بجائے ’اسکیلپل‘ استعمال کرنے کی بات کی۔

خلا سے حاصل تصاویر کیف کے ٹول باکس میں ایک اہم ہتھیار رہی ہیں۔ ان کا استعمال جاسوسی ڈرون مشنوں کی منصوبہ بندی کرنے، ٹینکوں اور گاڑیوں کے روسی ذخائر کو تلاش کرنے اور روس کے زیر کنٹرول علاقوں میں حملوں کے نتائج کا جائزہ لینے کے لیے کیا جاتا ہے۔

یہ میٹنگ وائٹ ہاؤس کے حکام کی شکایات کے بعد ہوئی تھی۔ یہ میٹنگ اس وقت ہوئی ،جب متعدد ریپبلکن قانون سازوں نے ایلون مسک کے ملازمین کی برطرفی  کے طریقوں پر اعتراض کیا تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتے، میں اس پر غور کر رہا ہوں اور کچھ لوگ اسے مناسب سمجھتے ہیں، کچھ لوگ ایسا نہیں سمجھتے اور میں اس بارے میں جلد فیصلہ کروں گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کی عوام نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے ایرانی سفیر کاظم جلالی کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق صورتحال کے حل کے لیے بین الاقوامی کوششوں پر تبادلہ خیال کیاہے۔

یہ نیا اقدام صدر ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران لگائی گئی پابندیوں کی یاد دلاتا ہے، جب انہوں نے سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر سفری پابندی عائد کی تھی۔ یہ پالیسی مختلف مراحل سے گزری اور بالآخر 2018 میں امریکی سپریم کورٹ نے اسے برقرار رکھا۔

واشنگٹن نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اسرائیل کے مشورے سے فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ براہ راست خفیہ رابطے کئے۔ ٹرمپ کا نیا موقف سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پرسامنے آیا ہے۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی پوری طرح سے متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیزیں بالکل سوچ کے مطابق ہو رہی ہیں اور اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہماری مصنوعات پر چین کا اوسط ٹیرف ہماری مصنوعات سے دو گنا زیادہ ہے اور جنوبی کوریا کا اوسط ٹیرف چار گنا زیادہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر اس دن آئی جب کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف اور 10 فیصد اضافی ٹیرف نافذ ہوا۔