Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکی عدالت نے کہا ہے کہ ملک بدر کیے گئے شخص کو تحریری نوٹس اور دعویٰ پیش کرنے کا موقع بھی دینا ہوگا۔ تارکین وطن کے ایک گروپ نے عرضی داخل کر امیگریشن اور کسٹمس انفورسمنٹ کی پالیسی کو چیلنج کیا گیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ "میرے انڈیا کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں، لیکن انڈیا کے ساتھ میرا ایک ہی مسئلہ ہے کہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ ٹیرف والے ممالک میں سے ایک ہے،

ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت مسلم طبقہ سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کر رہی ہے اور مشرق وسطیٰ میں مستقل امن قائم کرنے کے لیے اسٹریٹجک کوششوں میں مصروف ہے

پاکستان نے امریکہ کی جانب سے ملک کے مختلف تجارتی اداروں پر عائد حالیہ پابندیوں کی بھی مذمت کی اوراسے بغیر کسی مشاورت، ثبوت یا دلیل کے یکطرفہ فیصلہ قرار دیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے جمعرات کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا، ’’ہم امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے بل سے آگاہ ہیں۔ یہ افراد کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے نہ کہ امریکہ اور پاکستان کے وسیع تر تعلقات کی۔‘‘

چین کی وزارت خارجہ نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ تجارت اور ٹیکنالوجی کے مسائل کو سیاسی رنگ دے رہا ہے، اور چین اپنے اداروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے جوابی اقدامات کرے گا۔

تزویراتی طور پر، یہ پالیسی یو ایس ٹریژری، فورٹ ناکس، اور ایکسچینج سٹیبلائزیشن فنڈ جیسے اہم اداروں کو متاثر کر سکتی ہے، جو کہ 1934 کے گولڈ ریزرو ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ ان اداروں کے پاس سونے کو بٹ کوائن میں تبدیل کرنے کے عمل کو سنبھالنے کا موقع ہو سکتا ہے۔

را ہندوستان کی سب سے بڑی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی ہے، جو ہندوستانی سیکورٹی اور انٹیلی جنس جمع کرنے کی ذمہ دار ہے۔ یہ 1968 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد ہندوستانی مفادات کے تحفظ کے لیے بیرون ملک انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ حکم ’ایک بار اور ہمیشہ کے لیے وفاقی محکمہ تعلیم کو ختم کرنا شروع کر دے گا۔بقول ڈونلڈ ٹرمپ: ہم اسے بند کرنے جا رہے ہیں اور اسے جلد از جلد بند کر دیں گے۔ اس سے ہمارا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔

بدر خان سوری کو ورجینیا کے شہر آرلنگٹن میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ہوم لینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان ٹریسیا میک لافلن نے ایکس پر لکھا کہ سوری جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں فارن ایکسچینج کا طالب علم تھے جو فعال طور پر حماس کو پروپیگیٹ کر رہے تھے اور سوشل میڈیا پر یہود دشمنی کو فروغ دے رہے تھے۔

گبارڈ نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ ہمارے دونوں ممالک اور ہمارے رہنماؤں کے درمیان یہ شراکت اور دوستی بڑھتی اور مضبوط ہوتی رہے گی۔انہوں نے انڈو-پیسفک کے بارے میں تفصیل سے بات کی اور کہا کہ یہ ایک وسیع اور اہم خطہ ہے۔