Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے لیے واشنگٹن پہنچے جس میں اسرائیل پر واشنگٹن کے غیر متوقع محصولات اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلۂ خیال متوقع ہے

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ کے پیغام پر ان کے ملک کے ردعمل نے سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔

Elon Musk اس سے قبل صدر ٹرمپ کے بڑے حامی سمجھے جاتے تھے اور ان کا شمار ٹرمپ کے خصوصی مشیروں میں ہوتا تھا۔

شیئر بازار کے ماہر جم کریمر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیرف کی وجہ سے پہلے کاروباری دن پیر کو 1987 کے ’بلیک منڈے‘ کے بعد سب سے خراب ایک روزہ گراوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لورا لومر جو ایک کٹر دائیں بازو کی سمجھی جاتی ہیں۔ اس فیصلے میں ان کا اثر واضح طور پر نظر آتا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ٹرمپ سے ملاقات کی اور NSA اور NSS میں “مخالفین” اہلکاروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

وقف ترمیمی بل 2024 کو لوک سبھا میں اپوزیشن کی زبردست مخالفت کے درمیان منظورکرلیا گیا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے وزیراعظم مودی پرتنقید کی ہے۔

امریکہ بھارت سے بہت سی چیزیں درآمد کرتا ہے۔ اس فہرست میں پیٹرولیم، ادویات، ٹیلی کام کے آلات، موتی اور قیمتی پتھر، برقی مشینری شامل ہیں۔ اب خیال کیا جا رہا ہے کہ بھارت ان اشیاء پر کچھ ٹیرف کم کر سکتا ہے، وہ بھی امریکہ کی طرف سے بھی ٹیرف میں کمی کے بعد۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں کئی ممالک پر بھاری محصولات عائد کیے تھے ،جس کی وجہ سے تجارتی جنگ شروع ہو گئی تھی۔

امریکہ کے اس اعلان نے دیگر ممالک کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ چین نے پہلے ہی امریکی زرعی مصنوعات جیسے سویا بینز پر 10 سے 15 فیصد جوابی ٹیرف عائد کر دیے ہیں، جبکہ یورپی یونین نے امریکی سٹیل اور ایلومینیم کے ٹیرف کے جواب میں اپنے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

ترجمان امریکی محکمہ کارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے پاسداران انقلاب گارڈ کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے،  ایران کو نیوکلیئر اور بیلسٹک میزائل پروگرام کا پھیلاؤ روکنا ہوگا۔