Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں کئی ممالک پر بھاری محصولات عائد کیے تھے ،جس کی وجہ سے تجارتی جنگ شروع ہو گئی تھی۔

امریکہ کے اس اعلان نے دیگر ممالک کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ چین نے پہلے ہی امریکی زرعی مصنوعات جیسے سویا بینز پر 10 سے 15 فیصد جوابی ٹیرف عائد کر دیے ہیں، جبکہ یورپی یونین نے امریکی سٹیل اور ایلومینیم کے ٹیرف کے جواب میں اپنے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

ترجمان امریکی محکمہ کارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے پاسداران انقلاب گارڈ کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے،  ایران کو نیوکلیئر اور بیلسٹک میزائل پروگرام کا پھیلاؤ روکنا ہوگا۔

امریکی عدالت نے کہا ہے کہ ملک بدر کیے گئے شخص کو تحریری نوٹس اور دعویٰ پیش کرنے کا موقع بھی دینا ہوگا۔ تارکین وطن کے ایک گروپ نے عرضی داخل کر امیگریشن اور کسٹمس انفورسمنٹ کی پالیسی کو چیلنج کیا گیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ "میرے انڈیا کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں، لیکن انڈیا کے ساتھ میرا ایک ہی مسئلہ ہے کہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ ٹیرف والے ممالک میں سے ایک ہے،

ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت مسلم طبقہ سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کر رہی ہے اور مشرق وسطیٰ میں مستقل امن قائم کرنے کے لیے اسٹریٹجک کوششوں میں مصروف ہے

پاکستان نے امریکہ کی جانب سے ملک کے مختلف تجارتی اداروں پر عائد حالیہ پابندیوں کی بھی مذمت کی اوراسے بغیر کسی مشاورت، ثبوت یا دلیل کے یکطرفہ فیصلہ قرار دیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے جمعرات کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا، ’’ہم امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے بل سے آگاہ ہیں۔ یہ افراد کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے نہ کہ امریکہ اور پاکستان کے وسیع تر تعلقات کی۔‘‘

چین کی وزارت خارجہ نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ تجارت اور ٹیکنالوجی کے مسائل کو سیاسی رنگ دے رہا ہے، اور چین اپنے اداروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے جوابی اقدامات کرے گا۔

تزویراتی طور پر، یہ پالیسی یو ایس ٹریژری، فورٹ ناکس، اور ایکسچینج سٹیبلائزیشن فنڈ جیسے اہم اداروں کو متاثر کر سکتی ہے، جو کہ 1934 کے گولڈ ریزرو ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ ان اداروں کے پاس سونے کو بٹ کوائن میں تبدیل کرنے کے عمل کو سنبھالنے کا موقع ہو سکتا ہے۔

را ہندوستان کی سب سے بڑی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی ہے، جو ہندوستانی سیکورٹی اور انٹیلی جنس جمع کرنے کی ذمہ دار ہے۔ یہ 1968 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد ہندوستانی مفادات کے تحفظ کے لیے بیرون ملک انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنا ہے۔