Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

اس پراجیکٹ میں تقریباً 1,700 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، اور آمدنی ٹریبکا ڈیولپرز اور کنڈن اسپیسز کے درمیان 50-50 تقسیم ہوگی۔ مہتا کے مطابق ہم اسے قرض، ایکوئٹی اور فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے فنڈ کریں گے۔

پی ایم مودی نے فریڈمین کو بتایا کہ 2014 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد، میں نے دیکھا کہ اس وقت ہم بہت سی عالمی بحثوں کا حصہ نہیں تھے جیسا کہ آج صدر ٹرمپ اور DOGE کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔ لیکن میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ کس قسم کا کام کیا گیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ بعض سرکاری اسکیموں، خاص طور پر فلاحی پروگراموں سے بہت سارے لوگ استفادہ کر رہے ہیں جو حقیقی زندگی میں کبھی موجود ہی نہیں تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’Truth Social‘‘ پر لیکس فریڈمین کے ساتھ وزیر اعظم مودی کا پوڈکاسٹ شیئر کیے جانے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد وزیر اعظم مودی نے ٹرمپ کے اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنا اکاؤنٹ کھول لیا ہے۔

ریاستہائے متحدہ کی حکومت کے تعاون سے چلنے والے میڈیا نیٹ ورک وائس آف امریکہ کے ڈائریکٹر مائیکل ابرامووٹز نے کہا کہ ہفتے کے دن ہمارے 1,300 سے زیادہ صحافیوں، پروڈیوسرز اور معاون عملے کو چھٹی پر بھیج دیا گیا۔ ابرامووٹز نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ’’یہ میرے لیے تکلیف دہ ہے کہ 83 سالوں میں پہلی مرتبہ وائس آف امریکہ کو خاموش کیا جا رہا ہے۔‘‘

ادھرامریکی سینٹرل کمانڈ نے اتوار کو اعلان کیا کہ یمن میں حوثی گروپ کے خلاف اس کی کارروائیاں جاری ہیں۔کمانڈ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اپنے جنگی جہازوں اور لڑاکا طیاروں سے حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کے ویڈیو کلپس شائع کیے۔

امریکی صدر نے 13 فروری کو واشنگٹن ڈی سی میں پی ایم مودی کی میزبانی کی۔ ان کا یہ دورہ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں اپنی دوسری مدت کے آغاز کے تین ہفتوں کے اندر ہوا ہے۔ دو روزہ دورے کے دوران، وزیر اعظم نریندر مودی نے بلیئر ہاؤس میں قیام کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری بار امریکی صدر بننے کے بعد سے امریکا اور کینیڈا کے درمیان اختلافات اپنے عروج پر ہیں۔

ٹرمپ پہلے یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ اگر وہ صدر ہوتے تو یوکرین کی جنگ کبھی شروع نہ ہوتی۔ انہوں نے یوکرین کی جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا منصوبہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو وہ جلد جنگ ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ نے احتجاج پر قابو پانے کے لیے مداخلت کی اور تقریباً 100 مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہوں نے خامنہ ای کو ایک خط بھیجا ہے، جس میں جوہری مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی ہے، لیکن ساتھ ہی متنبہ کیا ہے کہ ’ایران سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں، ایک فوجی کارروائی، دوسرا آپ جوہری ہتھیاروں کو ترک کرنے کا معاہدہ کرلیں۔