یہ پیشین گوئی کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ امریکہ میں کیا ہونے والا ہے، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور صدر، اس سے قبل بھی جب یہ بات سامنے آئی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یمن میں حوثی جنگجوؤں پر حملہ کرنے کا منصوبہ ایک صحافی سے پہلے ہی شیئر دیا تھا، تو کافی ہنگامہ برپا ہوا تھا۔
اب یہ معاملہ مزید بڑھ گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق 15 مارچ کو یمن پر امریکی حملہ شروع ہونے سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک نجی سگنل گروپ چیٹ میں اس حملے سے متعلق اہم معلومات شیئر کی تھیں۔ اس گروپ میں ان کی بیوی، بھائی اور ذاتی وکیل شامل تھے۔ یہ رپورٹ نیویارک ٹائمز نے اتوار 20 اپریل کو شائع کی تھی۔ اس سے ٹرمپ حکومت کی سیکیورٹی سے متعلق لاپرواہی پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔
سوالات اٹھ رہے ہیں
اس رپورٹ نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ ٹرمپ حکومت کے اہلکار ایک عام میسجنگ ایپ پر اتنی خفیہ اور حساس سیکیورٹی معلومات کیوں شیئر کر رہے ہیں۔ سگنل ایپ واٹس ایپ کی طرح ایک میسجنگ ایپ ہے، لیکن یہ حکومتی یا محفوظ نظام نہیں ہے۔
رپورٹ میں انکشاف ہوا
نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیٹ ہیگستھ نے ایک پرائیویٹ چیٹ میں وہی معلومات شیئر کیں، جو گزشتہ ماہ دی اٹلانٹک میگزین نے رپورٹ کی تھی۔ نیویارک ٹائمز نے چار لوگوں کا حوالہ دیا ہے، جو اس چیٹ گروپ سے جڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری بات چیت میں یہ بھی بتایا گیا کہ F/A-18 ہارنٹس جیٹ کب اڑیں گے۔ انہی لڑاکا طیاروں نے یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔
پہلے زیر بحث چیٹ گروپ میں دی اٹلانٹک میگزین کے ایک صحافی کو قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز نے غلطی سے شامل کر لیا تھا۔ اب جو نیا کیس سامنے آیا ہے وہ ایک مختلف پرائیویٹ چیٹ گروپ کا ہے، جسے خود پیٹ ہیگستھ نے جنوری میں بنایا تھا۔ اس گروپ میں ان کی اہلیہ اور ایک درجن کے قریب لوگ شامل تھے جو ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر اس کے قریب تھے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس گروپ کا نام “Defense | Team Huddle” تھا اور یہ گروپ اس کے سرکاری فون کے بجائے اس کے ذاتی فون سے چلایا جا رہا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



