Bharat Express DD Free Dish

Houthi Rebels

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے، اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ حالیہ جھڑپوں میں تقریباً 500 افراد کے مارے جانے کی خبر ہے۔ اس کے علاوہ 3 سے 9 ستمبر کے درمیان 43 بچوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

سعودی عرب اور ایران نواز حوثی گروپ کے درمیان ایک بار پھر پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے درمیان سعودی اتحاد نے بھی حوثی ٹھکانوں پر اپنی بمباری تیز کر دی ہے۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے 300 سے زیادہ فضائی حملوں کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔اس کے باوجود حوثی قیادت نے کھلی دھمکی دی ہے کہ اگر یمن پر فضائی حملے نہیں روکے گئے تو وہ سعودی عرب کی حدود کے اندر مزید جارحانہ کارروائیاں کرے گی۔

حوثی گروپ نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی حملے کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق، ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ حالانکہ، ایران نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تیسرے فریق کے ذریعے ہلکا پھلکا پیغام رسانی ہوئی ہے۔

ساریہ نے کہا کہ گروپ کے اسرائیل کے خلاف میزائل حملے ’یمن کی حدیدہ بندرگاہ پر اسرائیلی میزائل حملوں کے جواب میں‘ تھے۔ اس سے قبل بھی مئی میں حوثی گروپ نے اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔

اس رپورٹ نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ ٹرمپ حکومت کے اہلکار ایک عام  میسجنگ ایپ پر اتنی خفیہ اور حساس سیکیورٹی معلومات کیوں شیئر کر رہے ہیں۔

حملوں سے پہلے اور بعد میں دارالحکومت کے کئی حصوں میں لڑاکا طیاروں کی تیز آوازیں سنی گئیں۔ حوثیوں کے زیر کنٹرول پولیس نے ان علاقوں کو گھیرے میں لے لیا جنہیں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد صنعاء کی سڑکوں پر ایمبولینسوں کو تیزی سے ان مقامات کی طرف جاتے دیکھا گیا۔

حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساریہ نے حوثیوں کے المسیرہ ٹی وی پر کہا کہ ایک امریکی ڈرون MQ-9 کو اس وقت مار گرایا گیا جب وہ شمال مغربی یمن کے صوبہ حجہ کے اوپر فضائی حدود میں آپریشن کو انجام دے رہا تھا۔

مقامی محکمہ صحت کے حکام کے ایک بیان کے مطابق حدیدہ کے رہائشی علاقے پر منگل کے روز کیے گئے فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہے۔ 16 دیگر زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔

ادھرامریکی سینٹرل کمانڈ نے اتوار کو اعلان کیا کہ یمن میں حوثی گروپ کے خلاف اس کی کارروائیاں جاری ہیں۔کمانڈ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اپنے جنگی جہازوں اور لڑاکا طیاروں سے حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کے ویڈیو کلپس شائع کیے۔