Bharat Express DD Free Dish

Houthi Rebels

ایئر انڈیا نے اپنے بیان میں کہا، ’’موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس نے 24 اکتوبر 2026 تک جدہ، ریاض اور دمام سے آنے جانے والی پروازیں عارضی طور پر معطل کردی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان رکاوٹوں سے ہمارے مسافروں کے سفری منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں اور ہم اس مدت کے دوران ممکنہ حد تک سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘

سائبر سکیورٹی: اے آئی کمپنی اینتھروپک نے تسلیم کیا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے اس کے کلاڈ اے آئی چیٹ بوٹ اور کوڈنگ ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے گائیڈڈ راکٹ اور ہائپرسونک بیلسٹک میزائل کے سافٹ ویئر کوڈ تیار کرنے کی کوشش کی۔

بدھ کے روز ہی یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک بیلسٹک میزائل لانچنگ پلیٹ فارم کو تباہ کر دیا ہے۔ اتحاد کے مطابق، اسی پلیٹ فارم کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا تھا

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے، اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ حالیہ جھڑپوں میں تقریباً 500 افراد کے مارے جانے کی خبر ہے۔ اس کے علاوہ 3 سے 9 ستمبر کے درمیان 43 بچوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

سعودی عرب اور ایران نواز حوثی گروپ کے درمیان ایک بار پھر پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے درمیان سعودی اتحاد نے بھی حوثی ٹھکانوں پر اپنی بمباری تیز کر دی ہے۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے 300 سے زیادہ فضائی حملوں کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔اس کے باوجود حوثی قیادت نے کھلی دھمکی دی ہے کہ اگر یمن پر فضائی حملے نہیں روکے گئے تو وہ سعودی عرب کی حدود کے اندر مزید جارحانہ کارروائیاں کرے گی۔

حوثی گروپ نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی حملے کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق، ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ حالانکہ، ایران نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تیسرے فریق کے ذریعے ہلکا پھلکا پیغام رسانی ہوئی ہے۔

ساریہ نے کہا کہ گروپ کے اسرائیل کے خلاف میزائل حملے ’یمن کی حدیدہ بندرگاہ پر اسرائیلی میزائل حملوں کے جواب میں‘ تھے۔ اس سے قبل بھی مئی میں حوثی گروپ نے اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔

اس رپورٹ نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ ٹرمپ حکومت کے اہلکار ایک عام  میسجنگ ایپ پر اتنی خفیہ اور حساس سیکیورٹی معلومات کیوں شیئر کر رہے ہیں۔

حملوں سے پہلے اور بعد میں دارالحکومت کے کئی حصوں میں لڑاکا طیاروں کی تیز آوازیں سنی گئیں۔ حوثیوں کے زیر کنٹرول پولیس نے ان علاقوں کو گھیرے میں لے لیا جنہیں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد صنعاء کی سڑکوں پر ایمبولینسوں کو تیزی سے ان مقامات کی طرف جاتے دیکھا گیا۔