Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ان بیانات نے نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو کشیدہ کیا بلکہ عرب اتحادیوں کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا، جس سے ٹرمپ کی سعودی-اسرائیلی تعلقات کو معمول پر لانے کی حکمت عملی پیچیدہ ہو گئی ہے۔

ٹرمپ کے خاندان کے افراد، خاص طور پر ایوانکا اور جیرڈ، ان کی نوبل امن انعام کی مہم کو غیر سرکاری طور پر فروغ دے رہے ہیں، لیکن عالمی برادری میں ان کی پالیسیوں پر منقسم رائے ہے۔ جبکہ کچھ لوگ ان کے غیر روایتی انداز کو امن کے لیے ایک نئی راہ سمجھتے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا، "مجھے ہندوستان اور پاکستان کی مضبوط قیادت پر بہت فخر ہے جنہوں نے اپنی طاقت، دانشمندی اور حوصلے کا استعمال کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس کشیدگی کو روکا جائے،

ٹرمپ نے تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے معاہدے سے خود کو (امریکہ) الگ کر لیا ہے۔ مغربی ممالک کا خیال ہے کہ اب 2015 کا معاہدہ تقریباً غیر فعال ہونے کے بعد ایران نے اپنا جوہری پروگرام تیز کر دیا ہے اور اس کا مقصد ہتھیار بنانا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ یہ مکمل طور پر شہری مقاصد کے لیے ہے۔

ہندوستان اورپاکستان کے درمیان سیز فائر ہوگیا ہے۔ یہ دعویٰ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک جنگ بندی کے لئے راضی ہوگئے ہیں۔ ہم نے دونوں کو منانے کی کوشش کی تھی، جس میں کامیاب ہوگئے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان اپنی ’ٹیٹ فار ٹیٹ‘ کے اقدامات کو روک دیں، انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ ’مدد‘ کے لیے کچھ کر سکتے ہیں، تو ضرور کریں گے۔

امریکی سفارتخانے نے پاکستان میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ اس میں انہوں نے کہا کہ لاہور اور اس کے گرد و نواح میں ڈرون حملوں کی اطلاعات ہیں۔ یہاں موجود تمام امریکی شہریوں کو پناہ میں جانے کی ہدایت جاری کی جارہی ہے۔

تاہم، بھارت اور امریکہ کے تجارتی معاہدے کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم ٹرمپ اپنے پچھلے دور اقتدار سے ہی اپنے مطالبات کے بارے میں کھل کر بات کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری ٹیرف وار کے درمیان سامنے آیا ہے۔ 10 اپریل کو چین نے اعلان کیا کہ اس نے چینی مارکیٹ میں ہالی ووڈ فلموں کی ریلیز کو قدرے کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹرمپ کی طرف سے یہ دھمکی ایسے موقع پر دی گئی ہے جب امریکہ و ایران دونوں کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کے ملتوی ہونے کی اطلاعات آئی ہیں۔