Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

وزارت خارجہ نے کہا کہ 7 مئی کو آپریشن سندور شروع ہونے سے لے کر 10 مئی کو گولی باری اور فوجی کارروائی بند کرنے پر اتفاق قائم ہونے تک ہند- امریکی لیڈران کے درمیان تجارت کا معاملہ ہی نہیں اٹھا۔

سعودی معیشت کی میکرو اکنامک بنیادوں کا استحکام مملکت کی سرمایہ کاری کی کشش کے اہم ترین عوامل میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اگلے 4 برس میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کی طرف اشارہ کیا۔

یہ دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک اب عالمی سطح پر ایک اہم جغرافیائی و سیاسی مقام کے حامل ہیں۔ نہ صرف وہ علاقائی استحکام کے لیے ایک مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، بلکہ اپنی مضبوط معیشت اور اصلاحاتی رجحانات کی بنا پر بھی توجہ کا مرکز ہیں۔

عمان کے دارالحکومت میں ایران کے سرکاری IRIB ٹی وی سے بات کرتے ہوئے، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بات چیت عام موضوعات سے ہٹ کر مزید مخصوص تجاویز کی طرف چلی گئی ہے۔ انہوں نے بات چیت کو آگے بڑھنے سے تعبیر کیا لیکن مسائل کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے ’’تجارت‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کو جنگ روکنے پر مجبور کیا۔

حماس نے امریکی-اسرائیلی قیدی ایڈن الیکزینڈر کی رہائی کا اعلان کیا ہے، جوغزہ میں جنگ بندی میں ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔ توقع ہے کہ الیکزینڈر کی رہائی سے غزہ میں کشیدگی میں کمی آئے گی اورایک جامع سیاسی تصفیہ ہوگا۔ تاہم ریلیزکرنے کی تاریخ ابھی واضح نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خط کے بعد ایران نے براہ راست مذاکرات سے انکار کیا تھا لیکن بالواسطہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

اس پر پون کھیڑا نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیگ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پوسٹ پر لکھا کہ ہمارے بی ایس ایف جوان پورم ساہو کو پاکستانی قید سے کب رہا کیا جائے گا؟

پہلگام میں دہشت گردانہ حملے سے کشمیرکی سیاحتی صنعت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ برسوں کی محنت ایک ہی حملے میں برباد ہوگئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان نے جان بوجھ کرمسئلہ کشمیرکوبین الاقوامی سطح پراٹھایا ہے، جس سے امن اورترقی کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ سیاحت کی صنعت ٹھپ ہوکررہ گئی ہے۔

چین نے اپنی معاشی حکمت عملی کو متنوع بنانے کے لیے ایشیا اور یورپ میں اتحادیوں کے ساتھ رابطے بڑھائے ہیں، جبکہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ الگ الگ معاہدوں پر توجہ دے رہا ہے۔