Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور امریکی صدر کے سب سے بااثر مشیروں میں سے ایک، اسٹیفن ملر نے کہا: "ٹرمپ نے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ بھارت کا روس سے تیل خرید کر جنگ کی مالی مدد کرنا ناقابل قبول ہے۔"

پیٹرولیم کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ روس سے خام تیل کی خریداری مکمل طور پر بند کرنا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ تمام ممالک اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے لیتے ہیں۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ روس-یوکرین جنگ کے دوران روس کی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنے کے لیے عالمی دباؤ ڈال رہا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ الفاظ بہت اہم ہوتے ہیں اور اکثر غیر متوقع نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاملہ ان میں سے ایک نہ ہو۔ ٹرمپ نے اس معاملے پر توجہ دینے پر شکریہ بھی ادا کیا۔

حزب اختلاف نے ٹرمپ کی طرف سے بھارت پر لگائے گئے اس ٹیرف پر سوالات اٹھائے ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ہندوستان پر 25 فیصد امریکی ٹیرف کے بعد حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی ملک کو چلانا نہیں جانتی۔ اس حکومت نے ملک کی پوری معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔

ٹرمپ کے نئے ٹیرف ریٹس سے امریکی کمپنیوں پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ریٹس غیر ملکی برآمد کنندگان پر اثر ڈالیں گے، تاہم ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس کا بڑا بوجھ امریکہ کی کمپنیوں کو اٹھانا پڑے گا، جس سے ملک میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔

تھرور نے کہا کہ امریکہ کے مطالبات مکمل طور پر غیر منصفانہ ہیں اور ہمارے مذاکرات کاروں کو اس کی مخالفت کا پورا حق ہے۔ ہمارے ملک کی تقریباً 70 کروڑ آبادی کا انحصار زراعت پر ہے۔ ہم صرف امریکہ کو خوش کرنے کے لیے ان کی روزی روٹی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔

بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ نے دیگر ممالک کی کمپنیوں پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ ان میں ترکی، متحدہ عرب امارات، چین اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ان ممالک کی کمپنیاں ایران کے ساتھ کاروبار کر رہی ہیں اور اسی وجہ سے ان پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔

ٹرمپ نے ہندوستانی برآمدات پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کرتے ہوئے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ خام تیل اور دفاعی ساز و سامان کے لیے روس کے ساتھ ہندوستان کی مسلسل شراکت داری کے جواب میں اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت پر25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر کانگریس نے مرکزی حکومت کوگھیرلیا ہے۔ ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ہندوستان پر25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے اورجرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ نریندرمودی کی 'دوستی' کا خمیازہ ملک بھگت رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے۔