Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

جب ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ چین روس سے تیل بھی خریدتا ہے تو پھر بھارت کو ہی کیوں نشانہ بنایا گیا، ٹرمپ نے واضح اشارہ دیا کہ ہم بھارت پر سیکنڈری سینکشن لگانے پر غور کر رہے ہیں۔ ایسا کئی دوسرے ممالک پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے، جس میں ایک چین بھئی ہو سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی سابق پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے موزوں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے لاکھوں زندگیاں بچائی گئیں۔تاہم، ان دعوؤں پر بین الاقوامی سطح پر ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں

امریکی صدر کے ان بیانات پر بھارتی وزارت خارجہ نے پیر کی شام سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو نشانہ بنانا غیر منصفانہ اور غیر منطقی ہے۔

یہ وہ علاقہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن 1993 کی جنگ میں آرمینیائی افواج کے قبضے میں آ گیا۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد یہ علاقہ ایک پیچیدہ تنازع کا مرکز بن گیا۔

اگر بولسونارو پر عائد الزامات کی بات کی جائے تو ان پر اور ان کے 33 ساتھیوں پر تختہ الٹنے کی سازش، پرتشدد جرائم میں شامل ہونے، جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش، اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت کو دھمکی دینا غیر منصفانہ اور غیر معقول ہے۔ بھارت، ایک بڑی معیشت کے طور پر، اپنے قومی مفادات اور معاشی سلامتی کو تحفظ دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔ بھارت کی روس سے تیل کی درآمدات عالمی منڈی کے حالات کی وجہ سے ناگزیر ہیں۔

تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق امریکی ٹیرف کا ہندوستانی معیشت پر ’’نہ کے برابر‘‘ اثر پڑے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ جی ڈی پی کا نقصان 0.2 فیصد سے زیادہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور امریکی صدر کے سب سے بااثر مشیروں میں سے ایک، اسٹیفن ملر نے کہا: "ٹرمپ نے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ بھارت کا روس سے تیل خرید کر جنگ کی مالی مدد کرنا ناقابل قبول ہے۔"

پیٹرولیم کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ روس سے خام تیل کی خریداری مکمل طور پر بند کرنا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ تمام ممالک اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے لیتے ہیں۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ روس-یوکرین جنگ کے دوران روس کی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنے کے لیے عالمی دباؤ ڈال رہا ہے۔