Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت پر سنگین الزامات لگائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت روس سے سستا تیل خرید کر اسے بین الاقوامی منڈی میں منافع کے ساتھ بیچ رہا ہے، جس سے روس کو مالی مدد مل رہی ہے۔

معلومات کے مطابق، تقریباً ایک سال تک سنٹرل کمان کی کمان سنبھالنے کے بعد جنرل کریلا کی مدت کار ختم ہو گئی ہے۔ ایسے میں فلوریڈا میں سینٹ کام کے ٹمپا اڈے پر جنرل کریلا کے لیے الوداعی پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے منیر کی فلوریڈا آمد کی اطلاع ملی ہے۔

پوتن کا دورہ بھارت ایک ایسے وقت میں ہو گا جب امریکہ نے روسی تیل کی خریداری  نہ روکنے پر بھارت پر پچاس فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ اجیت ڈوول کے دورہ روس سے پہلے، ماسکو نے اپنے تجارتی شراکت داروں کے انتخاب کے ہندوستان کے حق کی حمایت کرتے ہوئے ٹرمپ کو نشانہ بنایا تھا۔

جب ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ چین روس سے تیل بھی خریدتا ہے تو پھر بھارت کو ہی کیوں نشانہ بنایا گیا، ٹرمپ نے واضح اشارہ دیا کہ ہم بھارت پر سیکنڈری سینکشن لگانے پر غور کر رہے ہیں۔ ایسا کئی دوسرے ممالک پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے، جس میں ایک چین بھئی ہو سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی سابق پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے موزوں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے لاکھوں زندگیاں بچائی گئیں۔تاہم، ان دعوؤں پر بین الاقوامی سطح پر ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں

امریکی صدر کے ان بیانات پر بھارتی وزارت خارجہ نے پیر کی شام سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو نشانہ بنانا غیر منصفانہ اور غیر منطقی ہے۔

یہ وہ علاقہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن 1993 کی جنگ میں آرمینیائی افواج کے قبضے میں آ گیا۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد یہ علاقہ ایک پیچیدہ تنازع کا مرکز بن گیا۔

اگر بولسونارو پر عائد الزامات کی بات کی جائے تو ان پر اور ان کے 33 ساتھیوں پر تختہ الٹنے کی سازش، پرتشدد جرائم میں شامل ہونے، جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش، اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت کو دھمکی دینا غیر منصفانہ اور غیر معقول ہے۔ بھارت، ایک بڑی معیشت کے طور پر، اپنے قومی مفادات اور معاشی سلامتی کو تحفظ دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔ بھارت کی روس سے تیل کی درآمدات عالمی منڈی کے حالات کی وجہ سے ناگزیر ہیں۔

تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق امریکی ٹیرف کا ہندوستانی معیشت پر ’’نہ کے برابر‘‘ اثر پڑے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ جی ڈی پی کا نقصان 0.2 فیصد سے زیادہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔