Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پوتن پر طنز کرتے ہوئے کہا:"جب ایک امریکی صدر روس کے سب سے بڑے یا دوسرے سب سے بڑے تیل خریدار سے کہتا ہے کہ اگر تم نے روس سے تیل خریدا تو 50 فیصد ٹیرف لگے گا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینٹکام کی خفیہ معلومات اور منصوبوں تک اسلام آباد کی رسائی مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

الاسکا میں ہونے والی صدر ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے نہایت اہم ہونے والی ہے، جس میں خاص طور پر مشرقی یوکرین کے علاقوں پر کنٹرول سے متعلق تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

دریں اثنا نیتن یاہو نے اس منصوبے پر عالمی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم غزہ پر قبضہ کرنے نہیں جا رہے، ہم اسے حماس سے آزاد کروائیں گے۔‘‘

بھارت کی اس حمایت کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں امریکہ نے بھارت کی جانب سے روس سے تیل کی خریداری پر تنقید کی اور بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک اضافی محصولات عائد کیے۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا:"اس ملاقات کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ ہم کچھ زمین واپس لیں گے، کچھ تبادلے ہوں گے۔ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہوگا۔"

ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت کے خلاف یہ کارروائی بنیادی طور پر روس سے خام تیل خریدنے کی وجہ سے کی ہے۔ ٹرمپ کے مشیر پیٹر ناوارو نے بھارت کو "ٹیرف کا مہاراجہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت، امریکی مصنوعات پر دنیا میں سب سے زیادہ ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹیں عائد کرتا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت پر سنگین الزامات لگائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت روس سے سستا تیل خرید کر اسے بین الاقوامی منڈی میں منافع کے ساتھ بیچ رہا ہے، جس سے روس کو مالی مدد مل رہی ہے۔

معلومات کے مطابق، تقریباً ایک سال تک سنٹرل کمان کی کمان سنبھالنے کے بعد جنرل کریلا کی مدت کار ختم ہو گئی ہے۔ ایسے میں فلوریڈا میں سینٹ کام کے ٹمپا اڈے پر جنرل کریلا کے لیے الوداعی پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے منیر کی فلوریڈا آمد کی اطلاع ملی ہے۔

پوتن کا دورہ بھارت ایک ایسے وقت میں ہو گا جب امریکہ نے روسی تیل کی خریداری  نہ روکنے پر بھارت پر پچاس فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ اجیت ڈوول کے دورہ روس سے پہلے، ماسکو نے اپنے تجارتی شراکت داروں کے انتخاب کے ہندوستان کے حق کی حمایت کرتے ہوئے ٹرمپ کو نشانہ بنایا تھا۔