Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ٹرمپ نے کہا کہ الفاظ بہت اہم ہوتے ہیں اور اکثر غیر متوقع نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاملہ ان میں سے ایک نہ ہو۔ ٹرمپ نے اس معاملے پر توجہ دینے پر شکریہ بھی ادا کیا۔

حزب اختلاف نے ٹرمپ کی طرف سے بھارت پر لگائے گئے اس ٹیرف پر سوالات اٹھائے ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ہندوستان پر 25 فیصد امریکی ٹیرف کے بعد حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی ملک کو چلانا نہیں جانتی۔ اس حکومت نے ملک کی پوری معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔

ٹرمپ کے نئے ٹیرف ریٹس سے امریکی کمپنیوں پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ریٹس غیر ملکی برآمد کنندگان پر اثر ڈالیں گے، تاہم ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس کا بڑا بوجھ امریکہ کی کمپنیوں کو اٹھانا پڑے گا، جس سے ملک میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔

تھرور نے کہا کہ امریکہ کے مطالبات مکمل طور پر غیر منصفانہ ہیں اور ہمارے مذاکرات کاروں کو اس کی مخالفت کا پورا حق ہے۔ ہمارے ملک کی تقریباً 70 کروڑ آبادی کا انحصار زراعت پر ہے۔ ہم صرف امریکہ کو خوش کرنے کے لیے ان کی روزی روٹی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔

بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ نے دیگر ممالک کی کمپنیوں پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ ان میں ترکی، متحدہ عرب امارات، چین اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ان ممالک کی کمپنیاں ایران کے ساتھ کاروبار کر رہی ہیں اور اسی وجہ سے ان پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔

ٹرمپ نے ہندوستانی برآمدات پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کرتے ہوئے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ خام تیل اور دفاعی ساز و سامان کے لیے روس کے ساتھ ہندوستان کی مسلسل شراکت داری کے جواب میں اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت پر25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر کانگریس نے مرکزی حکومت کوگھیرلیا ہے۔ ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ہندوستان پر25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے اورجرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ نریندرمودی کی 'دوستی' کا خمیازہ ملک بھگت رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے۔

روس سے دوستی نبھانا ہندوستان کو مہنگا پڑگیا ہے۔ امریکی صدرنے روس سے خام تیل کی درآمد کرنے پرہندوستان پر25 فیصد ٹیرف لگا دیا۔ آپ کو بتا دیں کہ ہندوستان گزشتہ کئی سالوں سے روس سے  سب سے زیادہ خام تیل درآمد کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے اسی وجہ سے ہندوستان پر ٹیرف کے ساتھ جرمانہ بھی لگایا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 31ویں بار یہ دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی انہوں نے کرائی تھی۔ اس پر بھارت کے وزیرِ اعظم مودی کو بھی کھل کر اپنا مؤقف دینا چاہیے۔ ملک کسی بھی سیاسی جماعت سے بالاتر ہے۔

ہندوستان اورپاکستان کی حالیہ کشیدگی کو ختم کرنے سے متعلق امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے مسلسل کئے گئے دعووں سے ہندوستان میں سیاسی بیان بازی تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایسے میں ایک بارپھراس معاملے میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے وزیراعظم مودی پرتنقید کی ہے۔