Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

روس سے دوستی نبھانا ہندوستان کو مہنگا پڑگیا ہے۔ امریکی صدرنے روس سے خام تیل کی درآمد کرنے پرہندوستان پر25 فیصد ٹیرف لگا دیا۔ آپ کو بتا دیں کہ ہندوستان گزشتہ کئی سالوں سے روس سے  سب سے زیادہ خام تیل درآمد کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے اسی وجہ سے ہندوستان پر ٹیرف کے ساتھ جرمانہ بھی لگایا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 31ویں بار یہ دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی انہوں نے کرائی تھی۔ اس پر بھارت کے وزیرِ اعظم مودی کو بھی کھل کر اپنا مؤقف دینا چاہیے۔ ملک کسی بھی سیاسی جماعت سے بالاتر ہے۔

ہندوستان اورپاکستان کی حالیہ کشیدگی کو ختم کرنے سے متعلق امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے مسلسل کئے گئے دعووں سے ہندوستان میں سیاسی بیان بازی تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایسے میں ایک بارپھراس معاملے میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے وزیراعظم مودی پرتنقید کی ہے۔

ایس جے شنکر نے اپوزیشن رہنماؤں کو ٹوکتے ہوئے کہا:"میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ کان کھول کر سن لیں۔ 22 اپریل سے 16 جون تک، ایک بار بھی وزیر اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان فون پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔

بھارتی حکومت 1 اگست کی ڈیڈلائن سے پہلے معاہدے کی کوشش کر رہی ہے۔ راجیش اگروال کی قیادت میں بھارتی وفد نے جولائی میں واشنگٹن میں پانچ دور کی بات چیت مکمل کی، جو چار دن تک جاری رہی، مگر کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی

فوج کو پوری آزادی دینی ہوتی ہے۔ سیاسی عزائم کی ضرورت ہوتی ہے۔ فوج کے استعمال کے لیے سیاسی عزائم ضروری ہیں۔ 1971 میں تب کی وزیراعظم نے امریکہ کی پروا نہیں کی۔ ایک لاکھ پاکستانی فوجیوں نے سرینڈر کیا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں آپریشن سندور پربحث میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ میں آپریشن سندورکی وزیردفاع کی تقریرسن رہا تھا۔ انہوں نے وقت بتاتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور22 منٹ میں مکمل ہوا۔ اس کے بعد ہم نے پاکستان کوبتایا کہ ہم نے فوجی ٹھکانوں کونشانہ بنایا ہے۔ کیا یہ وزیر دفاع کے الفاظ ہونے چاہئیں؟ یہ کیسی قوت ارادی ہے؟ اس حکومت میں لڑنے کی طاقت نہیں تھی۔

اسی دوران انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے تنازع کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس تنازع کو کامیابی کے ساتھ اس معاملے کو حل کیا تھا۔

اس فہرست میں دوسرا نمبر حاصل کرنا جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، کیونکہ وہ ابھی صرف ایک مہینہ قبل ہی ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہوئے ہیں۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان کئی دنوں تک حملے جاری رہے جس سے دونوں ممالک کے انفراسٹرکچر کو بھی کافی نقصان پہنچا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے دوبارہ اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھایا تو امریکہ زیادہ سوچے سمجھے بغیر دوبارہ ایران پر بمباری کرے گا۔