امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے انہیں یقین دلایا ہے کہ جب تک وہ صدر ہیں چین تائیوان پر حملہ نہیں کرے گا۔ ٹرمپ نے یہ بیان فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دیا۔ یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین اور تائیوان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا، “صدر شی نے مجھے بتایا کہ جب تک آپ صدر ہیں، میں ایسا کبھی نہیں کروں گا۔ میں نے ان سے کہا، ‘میں ان کی تعریف کرتا ہوں۔’ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بہت صبر کرنے والا ہے اور چین بھی بہت صبر کرنے والا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کے دور حکومت میں تائیوان پر حملے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان پہلی تصدیق شدہ ٹیلی فون پر بات چیت جون میں ہوئی تھی۔ اپریل میں بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ شی نے انہیں فون کیا تھا، لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ بات چیت کب ہوئی تھی۔چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ کسی بھی حالت میں جزیرے کو “دوبارہ متحد” کر ے گا، یہاں تک کہ اگر ضرورت پڑی تو طاقت کا استعمال بھی کیا جائےگا۔ دوسری طرف، تائیوان چین کے خودمختاری کے دعوے کی سخت مخالفت کرتا ہے اور خود کو ایک آزاد جمہوری حکومت سمجھتا ہے۔
امریکہ اور تائیوان کے درمیان تعلقات
اگرچہ امریکہ تائیوان کا سب سے بڑا بین الاقوامی حامی اور ہتھیاروں کا سب سے بڑا سپلائر ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان کوئی رسمی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ چین نے ہمیشہ امریکہ کے اس کردار پر اعتراض کیا ہے۔واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے کہا کہ تائیوان کا مسئلہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں سب سے اہم اور حساس موضوع ہے۔ سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو نے ایک بیان میں کہاکہ امریکی حکومت کو ون چائنا پالیسی اور چین-امریکہ کے تین مشترکہ اعلامیوں پر عمل کرنا چاہیے۔ تائیوان سے متعلق معاملات کو احتیاط سے نمٹا جانا چاہیے ۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



