Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

پاکستان کی وزارت خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا، "امریکہ نے عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد تنظیموں پر قابو پانے میں پاکستان کی کامیابی کی تعریف کی۔

یہ جوہری توانائی سے چلنے والی کروز میزائل ہے۔ یہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے پر حملہ کر سکتی ہے۔

امریکہ نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ کوغیرملکی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ اس تنظیم کو پہلے ہی سال 2019 میں عالمی دہشت گرد قراردیا جا چکا ہے۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پوتن پر طنز کرتے ہوئے کہا:"جب ایک امریکی صدر روس کے سب سے بڑے یا دوسرے سب سے بڑے تیل خریدار سے کہتا ہے کہ اگر تم نے روس سے تیل خریدا تو 50 فیصد ٹیرف لگے گا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینٹکام کی خفیہ معلومات اور منصوبوں تک اسلام آباد کی رسائی مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

الاسکا میں ہونے والی صدر ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے نہایت اہم ہونے والی ہے، جس میں خاص طور پر مشرقی یوکرین کے علاقوں پر کنٹرول سے متعلق تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

دریں اثنا نیتن یاہو نے اس منصوبے پر عالمی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم غزہ پر قبضہ کرنے نہیں جا رہے، ہم اسے حماس سے آزاد کروائیں گے۔‘‘

بھارت کی اس حمایت کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں امریکہ نے بھارت کی جانب سے روس سے تیل کی خریداری پر تنقید کی اور بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک اضافی محصولات عائد کیے۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا:"اس ملاقات کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ ہم کچھ زمین واپس لیں گے، کچھ تبادلے ہوں گے۔ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہوگا۔"

ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت کے خلاف یہ کارروائی بنیادی طور پر روس سے خام تیل خریدنے کی وجہ سے کی ہے۔ ٹرمپ کے مشیر پیٹر ناوارو نے بھارت کو "ٹیرف کا مہاراجہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت، امریکی مصنوعات پر دنیا میں سب سے زیادہ ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹیں عائد کرتا ہے۔