Bharat Express DD Free Dish

Delhi Blast

سہارنپور میں دیوبند تھانے کے ایس ایچ او نریندر شرما کی ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ہندو مذہب میں بھی دہشت گرد ہوتے ہیں، نکسلی ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے ویڈیو کو ایڈیٹ شدہ قرار دیا۔ اس دوران ایس ایس پی نے ایس ایچ او کو دیوبند تھانے سے ہٹا کر لائن حاضر کر دیا ہے۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے دہلی کے لال قلعے کے قریب ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند مجرموں کی حرکتوں کی سزا پوری وادی کے عوام کو نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کشمیری کو دہشت گرد قرار دینا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ سوچ ملک کے اتحاد و امن کے لیے نقصان دہ ہے۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے بتایا کہ ریاست میں ان افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جنہوں نے سوشل میڈیا پر دہلی دھماکے کے حق میں یا ملک مخالف تبصرے کیے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ”دہلی بم دھماکوں کے بعد قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹ کے معاملے میں آسام بھر سے اب تک 15 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے“۔

مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کا گجرات متعینہ دورہ منسوخ کردیا گیا ہے۔ وزیرداخلہ کو احمدآباد فوڈ فیسٹیول اوراحمد آباد انٹرنیشنل بک فیسٹیول 2025 کا افتتاح کرنا تھا۔ امت شاہ کو احمد آباد فوڈ فیسٹیول اور احمدآباد انٹرنیشنل بک فیسٹیول 2025 کا افتتاح کرنا تھا، لیکن اب وہ اس میں شامل نہیں ہوں گے۔

ایل این جے پی اسپتال میں اب بھی لال قلعہ دہشت گرد دھماکے کے 20 سے زائد  زخمی مریض ہیں۔ ان مریضوں میں سے تین کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ تمام شدید زخمیوں کا آئی سی یو میں علاج چل رہا ہے۔

ترکیہ کے کمیونیکیشن ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "یہ دعویٰ کہ ترکیہ ہندوستان یا کسی دوسرے ملک کو نشانہ بنانے والی بنیاد پرست سرگرمیوں میں ملوث ہے،

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ عمر فرید آباد، لکھنؤ اور جنوبی کشمیر کے درمیان کام کرنے والے جیش محمد کے لاجسٹک ماڈیول سے وابستہ تھے۔ یہ ماڈیول تقریباً 9 سے 10 ممبران پر مشتمل تھا ،جس میں 5 سے 6 ڈاکٹرز شامل تھے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سیکرٹری ترن چُگھ نے خوفناک کار دھماکے کے معاملے پر کانگریس اور نیشنل کانفرنس (این سی) کو اپنی سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا اور ان کی خاموشی کو شرمناک قرار دیا۔

مرکز کی مودی حکومت نے دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب پیش آئے کار دھماکے کو باقاعدہ طور پر دہشت گردانہ واردات قرار دے دیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت بدھ کو منعقدہ کابینہ اجلاس میں اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور جاں بحق افراد کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ حکومت نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تفتیشی ایجنسیوں کو جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔

امروہہ کے منگریلا گاؤں کے رہائشی اشوک کمار دہلی میں ڈی ٹی سی بس میں کنڈکٹر کا کام کرتے تھے، جبکہ لوکیش حسن پور میں کھاد فروش تھے۔ دونوں دوست لال قلعے کے نزدیک سے گزر ہی رہے تھے کہ ان کے سامنے والی کار میں دھماکہ ہو گیا۔