Bharat Express DD Free Dish

Red Fort Blast Update : دہلی بم دھماکہ: آسام میں 15 افراد گرفتار، وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے بتایا ایک-ایک کا نام

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے بتایا کہ ریاست میں ان افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جنہوں نے سوشل میڈیا پر دہلی دھماکے کے حق میں یا ملک مخالف تبصرے کیے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ”دہلی بم دھماکوں کے بعد قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹ کے معاملے میں آسام بھر سے اب تک 15 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے“۔

دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب 10 نومبر کی شام ہونے والے خوفناک بم دھماکے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ دھماکہ نہ صرف دہلی بلکہ پورے ہندوستان کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہوا۔ جائے وقوعہ پر پھیلی تباہی نے ماضی کے دہشت گردانہ واقعات کی یاد تازہ کر دی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس المناک واقعے میں 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد زخمی ہیں۔ مرکزی تفتیشی ایجنسیاں اس دھماکے کو ایک منظم دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے اس کے تمام پہلوؤں کی گہرائی سے چھان بین کر رہی ہیں۔ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر کئی مشتبہ افراد کی شناخت ہو چکی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر اس سانحے سے متعلق سامنے آنے والی پوسٹ نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے جمعرات کی صبح ایک اہم بیان میں بتایا کہ ریاست میں ان افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جنہوں نے سوشل میڈیا پر دہلی دھماکے کے حق میں یا ملک مخالف تبصرے کیے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ”دہلی بم دھماکوں کے بعد قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹ کے معاملے میں آسام بھر سے اب تک 15 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ آسام پولیس ایسے عناصر کے خلاف کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتے گی جو تشدد یا دہشت گردی کا جواز پیش کریں“۔ ذرائع کے مطابق آسام پولیس نے بدھ کی رات چھ مزید افراد کو بھی حراست میں لیا تھا۔ یہ تمام گرفتاریاں سوشل میڈیا پر دہلی دھماکے کی حمایت اور ملک دشمن بیانات دینے کے الزامات میں کی گئی ہیں۔

یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج، این آئی اے نے سنبھالی تفتیش
دہلی پولیس نے اس معاملے کو غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ یعنی یو اے پی اے کے تحت درج کیا ہے۔ قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے اب اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور اسے ایک بڑے دہشت گردانہ نیٹ ورک سے جوڑ کر تفتیش کر رہی ہے۔

فریدآباد کی “الفلّاح یونیورسٹی” بنی منصوبہ بندی کا مرکز
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ فریدآباد میں واقع الفلّاح یونیورسٹی ہی اس دہشت گردانہ سازش کا اصل مرکز تھی۔ سکیورٹی ایجنسیوں نے یونیورسٹی کے ایک کمرے سے ڈاکٹر مزمل اور ایک دیگر مشتبہ دہشت گرد عمر کی ڈائری برآمد کی ہے، جس میں دھماکے کی تفصیلی منصوبہ بندی درج ہے۔ ڈائری سے پتہ چلا کہ دہلی کے علاوہ ملک کے چار دیگر شہروں میں بیک وقت دھماکے کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی، جن کے لیے چار علیحدہ ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ فریدآباد پولیس نے یونیورسٹی کے کمرہ نمبر 13 کو سیل کر دیا ہے، جبکہ مزمل اور عمر کے نیٹ ورک، کیمیکل سپلائی چین اور ممکنہ معاونین کی تلاش جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق، اگر وقت پر اس سازش کا انکشاف نہ ہوتا تو ملک کو ایک ساتھ چار شہروں میں بڑے دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read