Bharat Express DD Free Dish

Red Fort car blast

این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کے تار صرف بھارت تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کے بین الاقوامی روابط بھی ہو سکتے ہیں۔ ایجنسی سازش کا پردہ فاش کرنے کے لیے ہر پہلو سے باریک بینی سے تحقیقات کر رہی ہے۔

لال قلعہ کار بلاسٹ کیس کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے این آئی اے کی درخواست پر ڈاکٹر مُزمل سمیت دیگر گرفتار ملزمین کی ریمانڈ میں چار دن کی توسیع کر دی ہے۔

شعیب اس معاملے میں گرفتار ساتواں ملزم ہے۔ اس سے قبل این آئی اے عمر کے چھ قریبی ساتھیوں کو گرفتار کرچکی ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ خودکش دھماکے سے متعلق تمام شواہد اور مشتبہ افراد تک پہنچنے کے لیے متعدد ریاستوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ این آئی اے کا مقصد ہے کہ پورا دہشت گرد نیٹ ورک بے نقاب کیا جائے اور اس کے تمام اراکین کو گرفتار کیا جائے۔

10 نومبر کو دہلی کے لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ہونے والے ایک دھماکے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ شام تقریباً 6:52 بجے ہائی ٹریفک سگنل پر کھڑی سفید ہنڈائی آئی20 کار میں زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ کئی گاڑیاں جل کر راکھ ہوگئیں اور قریبی دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

افسران کے مطابق، ان افراد کو ایک خصوصی ٹیم نے خفیہ آپریشن کے دوران شہر کے مختلف مقامات سے گرفتار کیا ہے۔ پوچھ گچھ کے بعد انہیں مزید تفتیش کے لیے دہلی بھیجا جا رہا ہے۔

این آئی اے کی تفتیش سے یہ بھی پتہ چلا تھا کہ پمپور کے سمبورہ علاقے کا رہنے والا عامر، حملے میں استعمال ہونے والی کار خریدنے میں مدد کرنے کے لیے دہلی آیا تھا۔ اسی کار کو بعد میں دھماکے کے لیے وہیکل بیسڈ آئی ای ڈی کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔

خط میں وزیراعظم سے اپیل کی گئی کہ وہ عوامی طور پر یہ یقین دہانی کرائیں کہ کشمیری طلبہ بھی بھارت کے مساوی شہری ہیں اور انہیں وہی حقوق اور تحفظات ملیں گے جو باقی شہریوں کو حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے اہلِ خانہ کو یقین ہونا چاہیے کہ ان کے بچے گھر سے دور بھی محفوظ ہیں۔ آپ کا ایک بیان یا اپیل ان خاندانوں کے دل کو سکون دے سکتا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کہا کہ دہلی بم دھماکوں کے قصورواروں کو سخت ترین سزا دی جائے گی تاکہ کوئی بھی اسے دہرانے کی ہمت نہ کرے۔ وزیر داخلہ آن لائن میڈیم کے ذریعے سے گجرات کے ایک اسکول کی افتتاحی تقریب کو خطاب کر رہے تھے۔

 ایسوسی ایشن آف انڈین یونین نے الفلاح کو فوری اثر سے ایسوسی ایشن آف انڈین یونین کا لوگو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ اس یونیورسٹی سے متعلق کئی ڈاکٹر جانچ ایجنسیوں کی حراست میں ہیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے دہلی کے لال قلعے کے قریب ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند مجرموں کی حرکتوں کی سزا پوری وادی کے عوام کو نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کشمیری کو دہشت گرد قرار دینا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ سوچ ملک کے اتحاد و امن کے لیے نقصان دہ ہے۔