Pakistan Ready For War with India- Khawaja Asif : دہلی دھماکے کے بعد بڑھی پاکستان کی بےچینی، وزیر دفاع خواجہ آصف نے دی بھارت و افغانستان کو گیدڑ بھبھکی
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دہلی دھماکے کے حوالے سے ایک اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے بھارت اور افغانستان دونوں کو کھلی دھمکی دے ڈالی۔ انہوں نے کہا، ”کل تک یہ ایک گیس سلنڈر کا دھماکہ تھا اور آج وہ اسے غیر ملکی سازش قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت کسی بھی وقت پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے، لیکن ہم دو محاذوں پر لڑنے کے لیے تیار ہیں“۔
Red Fort Blast Update : دہلی بم دھماکہ: آسام میں 15 افراد گرفتار، وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے بتایا ایک-ایک کا نام
آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے بتایا کہ ریاست میں ان افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جنہوں نے سوشل میڈیا پر دہلی دھماکے کے حق میں یا ملک مخالف تبصرے کیے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ”دہلی بم دھماکوں کے بعد قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹ کے معاملے میں آسام بھر سے اب تک 15 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے“۔
Home Minister Amit Shah high level Meeting: دہلی دھماکہ کرانے والوں کا ہوگا حساب! وزیرداخلہ امت شاہ نے خفیہ افسران کے ساتھ کی میٹنگ
مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کا گجرات متعینہ دورہ منسوخ کردیا گیا ہے۔ وزیرداخلہ کو احمدآباد فوڈ فیسٹیول اوراحمد آباد انٹرنیشنل بک فیسٹیول 2025 کا افتتاح کرنا تھا۔ امت شاہ کو احمد آباد فوڈ فیسٹیول اور احمدآباد انٹرنیشنل بک فیسٹیول 2025 کا افتتاح کرنا تھا، لیکن اب وہ اس میں شامل نہیں ہوں گے۔
Delhi Car Blast Death Count: ایل این جے پی اسپتال میں بلال نے زندگی کی بازی ہاری، دہلی دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد ہوئی13،اپنوں کی جدائی کا غم
ایل این جے پی اسپتال میں اب بھی لال قلعہ دہشت گرد دھماکے کے 20 سے زائد زخمی مریض ہیں۔ ان مریضوں میں سے تین کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ تمام شدید زخمیوں کا آئی سی یو میں علاج چل رہا ہے۔
Delhi Blast News : دہلی بم دھماکہ کو مودی حکومت نے قرار دیا دہشت گردانہ حملہ، کابینہ اجلاس میں جاں بحق افراد کو پیش کیا گیا خراج عقیدت
مرکز کی مودی حکومت نے دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب پیش آئے کار دھماکے کو باقاعدہ طور پر دہشت گردانہ واردات قرار دے دیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت بدھ کو منعقدہ کابینہ اجلاس میں اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور جاں بحق افراد کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ حکومت نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تفتیشی ایجنسیوں کو جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔
Bangladesh Awami League On Delhi Blast : دہلی دھماکے پر بنگلہ دیش عوامی لیگ کا اظہار افسوس، پاکستان کو ٹھہرایا ذمہ دار
بھارت کے دارالحکومت دہلی میں لال قلعے کے قریب ہونے والے خوفناک دھماکے پر بنگلہ دیش کی جماعت عوامی لیگ کی طلبہ شاخ بنگلہ دیش اسٹوڈنٹس لیگ نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تنظیم نے اسے پاکستان کی پشت پناہی یافتہ انتہاپسند گروپوں کی کارستانی قرار دیتے ہوئے اسے "خطے کو غیر مستحکم کرنے والی کارروائی" قرار دیا۔
لکھنؤ تک پہنچی دہلی بم دھماکے کی جانچ، سابق لیکچرر ڈاکٹر شاہین سعید گرفتار، کار سے ملی تھی اے کے-47
ڈاکٹر شاہین سعید، کانپور کے جی ایس وی ایم میڈیکل کالج کے فارماکولوجی ڈپارٹمنٹ میں سات سال تک لیکچرر رہ چکی ہیں۔ سال 2013 میں وہ بغیر اطلاع کے نوکری سے غائب ہو گئیں، جس کے بعد انہیں متعدد نوٹس بھیجے گئے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بالآخر 2021 میں حکومت نے انہیں برطرف کر دیا۔
PM Modi meet Delhi blast Victims: بھوٹان سے لوٹتے ہی ایل این جے پی اسپتال پہنچے وزیراعظم مودی، لال قلعہ دھماکہ کے زخمیوں سے کی ملاقات
وزیراعظم نریندرمودی نے بھوٹان سے لوٹ کردہلی دھماکہ کے زخمیوں سے ایل این جے پی اسپتال میں ملاقات کی۔ دہلی پولیس نے یواے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا ہے، جس کی جانچ این آئی اے کو سونپی گئی ہے۔
Al Falah University issues official statement: ’’ہمارا دہلی دھماکے سے کوئی کنیکشن نہیں…‘‘، الفلاح یونیورسٹی کا آیا باضابطہ بیان
الفلاح یونیورسٹی نے کہا کہ وہ تمام تنظیموں اور دیگر پر زور دینا چاہتی ہے کہ وہ ہماری یونیورسٹی سے متعلق کسی بھی معلومات کو کسی بھی پلیٹ فارم کے ذریعے شیئر کرنے سے پہلے اس کی سچائی کی تصدیق کریں۔ بغیر تصدیق کے ہماری یونیورسٹی سے متعلق کوئی بھی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں۔
Red Fort Blast Update : دہلی دھماکے کا ’ڈاکٹر ڈیتھ‘! کون ہے مشتبہ ڈاکٹر محمد عمر؟ پلوامہ سے فریدآباد تک کنکشن
دہلی پولیس، این آئی اے اور ہریانہ پولیس اس معاملے کی مشترکہ تفتیش کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر محمد عمر کو اس دھماکے کا ممکنہ ماسٹر مائنڈ مانا جا رہا ہے اور ایجنسیاں یہ جاننے میں مصروف ہیں کہ آیا اس کے پیچھے کوئی بڑا بین الاقوامی نیٹ ورک تو سرگرم نہیں۔ تحقیقات کا دائرہ اب جموں و کشمیر، دہلی اور ہریانہ تک پھیل چکا ہے۔





