Bharat Express DD Free Dish

Red Fort car blast

دہلی میں پیرکے روز ہوئے کار دھماکہ کے حادثہ پروزیراعظم نریندرمودی نے اپنا ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں متاثرہ خاندان کے ساتھ ہوں اور قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔

چیف جسٹس گوئی کا یہ پیغام صرف ایک رسمی تعزیت نہیں بلکہ دکھ اور غیر یقینی حالات کے درمیان عدلیہ کے غیر متزلزل عزم کا اظہار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ قانون کی بالادستی، انصاف کے قیام، اور ہر شہری کی عزت و وقار کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

دھماکہ پیر کی شام اس وقت ہوا، جب لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 1 کے قریب ہریانہ نمبر پلیٹ والی ہنڈائی آئی-20 کار میں زوردار دھماکہ ہوا۔ اس حادثے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

اداکار کھیساری لال یادو راشٹریہ جنتا دل کے ٹکٹ پر چھپرا اسمبلی سیٹ سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہو چکی ہے اور انہوں نے بہار اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھرپور محنت کی ہے۔

لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے پاس دھماکے کے بعد ہائی الرٹ پر ہے۔ اے ایس آئی نے لال قلعہ تین دنوں کے لئے بند کیا ہے جبکہ نیتا جی سبھاش مارگ عام لوگوں کے لئے بند کردیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ دہلی کار بم دھماکہ کیس میں ایکسپلوسیو ایکٹ کی دفعہ 3 اور 4 بھی لگائی گئی ہے۔ ان کارروائیوں کا تعلق دھماکہ خیز مواد کے غیر قانونی قبضے اور استعمال سے ہے۔ حکام نے قتل اور اقدام قتل کے الزامات کی دفعات بھی شامل کی ہیں،

لوک نائک جے پرکاش نارائن اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا: ’’پندرہ افراد کو اسپتال لایا گیا، جن میں آٹھ افراد راستے میں دم توڑ چکے تھے۔ تین زخمیوں کی حالت نازک ہے۔‘‘ عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ ’’سڑک پر انسانی جسم کے اعضاء بکھرے ہوئے تھے۔ کوئی سمجھ نہیں سکا کہ ایک لمحے میں کیا ہوا۔‘‘