پرانی دہلی میں پیر کی پرامن صبح، شام تک افراتفری میں بدل گئی، جب شام 6بجکر 52 منٹ پرلال قلعہ اورچاندنی چوک مارکیٹ کے علاقے کے قریب ہنڈائی آئی ٹیونٹی کار میں زور دار دھماکہ ہوا۔ دھماکے میں کم از کم اب تک 13 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
ایل این جے پی اسپتال کے آئی سی یو میں داخل ایک 35 سالہ مریض بلال حسن کی کل رات موت ہو گئی۔ دھماکے کی وجہ سے بلال کو شدید زخم لگے تھے، دھماکے کی وجہ سے ان کی آنتیں اورپھیپھڑے بھی پھٹ گئے تھے۔ انہیں پیر کو ایل این جے پی اسپتال کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا، لیکن ان کی جان نہیں بچائی جاسکی۔ ایل این جے پی اسپتال میں اب بھی لال قلعہ دہشت گرد دھماکے کے 20 سے زائد زخمی مریض ہیں۔ ان مریضوں میں سے تین کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ تمام شدید زخمیوں کا آئی سی یو میں علاج چل رہا ہے۔
دھماکہ خیز مواد کی خریداری کے لیے 26 لاکھ روپے جمع کئے گئے تھے
وائٹ کالر دہشت گرد ماڈیول کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے ڈاکٹروں نے لال قلعہ کے قریب دھماکے میں استعمال ہونے والے مواد کی خریداری کے لیے 26 لاکھ روپے جمع کئے تھے۔ ایک اہلکارنے بتایا کہ چار مشتبہ افراد – ڈاکٹر مزمل غنی، ڈاکٹر عدیل احمد راتھر، ڈاکٹر شاہین سعید اور ڈاکٹرعمر نبی نے مشترکہ طور پر نقد رقم جمع کی تھی، جسے محفوظ رکھنے اور آپریشنل استعمال کے لیے ڈاکٹر عمر کے حوالے کیا گیا تھا۔ جموں و کشمیر کے پلوامہ کے رہنے والے اور ہریانہ کے فرید آباد میں الفلاح یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرعمر پیرکی شام لال قلعہ کے مصروف علاقے میں دھماکے میں استعمال ہونے والی ہنڈائی i20 کار چلا رہے تھے۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ رقم دہشت گردی کی ایک بڑی سازش کے لیے دی گئی تھی۔
کیا عمر اور مزمل میں پیسوں کے لئے ہوئی تھی لڑائی ؟
جمع شدہ رقم سےانہوں نے مبینہ طور پر گروگرام، نوح اور قریبی قصبوں سے تقریباً 26 کوئنٹل NPK کھاد خریدی، جس کی مالیت تقریباً 3 لاکھ ہے۔ حکام نے بتایا کہ دیگر کیمیکلز کے ساتھ ملا کر یہ کھاد عام طور پر دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ گروپ کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں کھاد کی خریداری تفتیش میں اہم سراغ بن گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالیاتی لین دین اور سپلائی کے ریکارڈ کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ دھماکے سے پہلے کے دنوں میں عمر اور مزمل کے درمیان مالی لین دین کے حوالے سے اختلاف تھا۔ تفتیش کار اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ کیا اس تنازعہ نے گروپ کے منصوبوں یا حملے کے وقت کو متاثر کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


