Bharat Express DD Free Dish

Al-Falah University membership cancelled: دہلی دھماکہ کے بعد الفلاح یونیورسٹی کے خلاف بڑی کارروائی، حکومت نے منسوخ کردی رکنیت

 ایسوسی ایشن آف انڈین یونین نے الفلاح کو فوری اثر سے ایسوسی ایشن آف انڈین یونین کا لوگو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ اس یونیورسٹی سے متعلق کئی ڈاکٹر جانچ ایجنسیوں کی حراست میں ہیں۔

الفلاح یونیورسٹی کی رکنیت منسوخ کردی گئی ہے۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی: دہلی کے لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ہوئے حملے سے متعلق حکومت نے بڑا فیصلہ لیا ہے۔ ایسوسی ایشن آف انڈین یونین (اے آئی یو) نے ہریانہ کے فریدآباد واقع الفلاح یونیورسٹی کی رکنیت منسوخ کردی ہے۔ الفلاح یونیورسٹی کو فوری اثر سے اے آئی یو کا لوگو ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس یونیورسٹی سے متعلق کئی ڈاکٹروں کو دہلی بم دھماکہ معاملے میں جانچ ایجنسیوں نے حراست میں لیا ہے، جس میں ڈاکٹرعمرالنبی، ڈاکٹر شاہد، ڈاکٹرنثارالحسن اور ڈاکٹر مزمل شامل ہیں۔

این ایم سی اورNAAC  بھی کارروائی کی تیاری میں

الفلاح یونیورسٹی اب اپنی ویب سائٹ پر نصاب کے بارے میں غلط جانکاری دینے کے سبب بھی جانچ کے دائرے میں ہے۔ وہیں نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) نے بھی یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کے اشارے دیئے ہیں۔ این ایم سی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ابھی وہ مناسب ثبوت کا انتظار کررہے ہیں۔ نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (NAAC) ے الفلاح یونیورسٹی کو اپنی ویب سائٹ پرغلط ایکریڈیٹیشن ظاہر کرنے پر وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے پاس نہ تو NAAC ایکریڈیشن ہے اور نہ ہی اس نے NAAC کی منظوری کے لیے درخواست دی ہے۔

دہلی دھماکہ سے جڑگیا الفلاح یونیورسٹی کا تار؟

دہلی دھماکہ کے بعد فریدآباد کی الفلاح یونیورسٹی، ٹیرر ماڈیول سے جڑے ڈاکٹروں کی گرفتاری کے بعد جانچ کے گھیرے میں ہے۔ ای ڈی بھی اس یونیورسٹی کے فنڈنگ کی جانچ کررہی ہے۔ الزام ہے کہ اس یونیورسٹی کے 10 سالوں کے فائنانشیل فائلنگس اور ایف سی آراے ریکارڈس عوامی طورپرغائب ہیں۔

دہلی دھماکہ سے جڑی تیسری کار جمعرات (13 نومبر، 2025) کو الفلاح یونیورسٹی کے اندر سے برآمد کی گئی۔ اس کارکے مالک ڈاکٹر شاہین سعید ہیں۔ خبروں کے مطابق، ان مشتبہ لوگوں نے آئی ای ڈی لے جانے کے لئے تین کاریں-ایک سفید ہنڈئی آئی-20، ایک لال ایکواسپورٹ اور ایک ماروتی سزوکی بریزا خریدا تھی۔ الفلاح یونیورسٹی سے آج ماروتی سزوکی بریزا کار برآمد کی گئی۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read