Bharat Express DD Free Dish

Delhi Blast: دہلی دھماکہ معاملے میں این آئی اے کو بڑی کارروائی، دہشت گرد کے ایک اور اہم ساتھی کی گرفتاری

این آئی اے کی تفتیش سے یہ بھی پتہ چلا تھا کہ پمپور کے سمبورہ علاقے کا رہنے والا عامر، حملے میں استعمال ہونے والی کار خریدنے میں مدد کرنے کے لیے دہلی آیا تھا۔ اسی کار کو بعد میں دھماکے کے لیے وہیکل بیسڈ آئی ای ڈی کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔

نئی دہلی: دہلی کے لال قلعہ علاقے میں 10 نومبر کو ہوئے بم دھماکے کے معاملے میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے بڑی کارروائی کی ہے۔ این آئی اے نے دھماکے میں ملوث دہشت گرد کے ایک اور بڑے ساتھی کو گرفتار کر لیا ہے۔

ملزم کی شناخت کشمیر کے رہنے والے جسیر بلال وانی عرف دانش کے طور پر ہوئی ہے۔ این آئی اے کی ایک ٹیم نے اسے جموں و کشمیر کی دارالحکومت سری نگر سے گرفتار کیا ہے۔ این آئی اے کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ جسیر نے دہشت گردانہ حملے کو انجام دینے کے لیے تکنیکی مدد فراہم کی تھی۔ اس کار بم دھماکے میں 10 افراد کی موت ہوئی تھی جبکہ 32 زخمی ہوئے تھے۔

قاضی گنڈ کا رہائشی ہے جسیر بلال

جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے قاضی گنڈ کے رہائشی جسیر بلال کو اس حملے کا فعال شریکِ سازش بتایا گیا ہے۔ اس نے عمر نبی کے ساتھ مل کر اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ این آئی اے دھماکے کی سازش کے تمام پہلوؤں کی تفتیش کر رہی ہے۔ ایجنسی کی کئی ٹیمیں مختلف سراغوں کے پیچھے لگی ہوئی ہیں اور حملے میں شامل ہر شخص کی شناخت کے لیے مختلف ریاستوں میں چھاپے مار رہی ہیں۔

عامر راشد علی دہلی سے گرفتار

ایک دن قبل این آئی اے نے اسی معاملے میں کشمیر کے رہنے والے ایک اور شخص عامر راشد علی کو گرفتار کیا تھا۔ عامر نے مبینہ طور پر خودکش حملہ آور کے ساتھ مل کر اس دہشت گردانہ حملے کی سازش تیار کی تھی۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسی نے عامر راشد علی کو دہلی سے گرفتار کیا۔ دہلی پولیس سے کیس اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد این آئی اے نے بڑے پیمانے پر تلاشی مہم چلائی تھی۔

این آئی اے کی تفتیش سے یہ بھی پتہ چلا تھا کہ پمپور کے سمبورہ علاقے کا رہنے والا عامر، حملے میں استعمال ہونے والی کار خریدنے میں مدد کرنے کے لیے دہلی آیا تھا۔ اسی کار کو بعد میں دھماکے کے لیے وہیکل بیسڈ آئی ای ڈی (گاڑی پر نصب دھماکہ خیز آلہ) کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read