Delhi Blast case: دہلی بم دھماکہ معاملے میں این آئی اے عدالت نے یاسر احمد ڈار کو عدالتی تحویل میں بھیجا
یہ معاملہ 10 نومبر کو شام تقریباً 7 بجے دہلی میں پیش آنے والے ایک خوفناک بم دھماکے سے متعلق ہے۔ دھماکہ ایک چلتی ہوئی ہنڈائی i20 کار میں ہوا تھا، جس میں مبینہ خودکش حملہ آور عمرالنبی سوار تھا۔ اس دھماکے میں 15 افراد ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
Who is advocate Madhav Khurana: کون ہیں مادھَو کُھرانا؟ دہلی دھماکے کے معاملے پر عدالت میں بنیں گے این آئی اے کا چہرہ ؛ مرکز نے کی تقرری
مرکز نے لال قلعہ کار دھماکے کے معاملے میں سینئر وکیل مادھو کُھرانا کو خصوصی سرکاری وکیل مقرر کیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ یہ کون ہیں۔
Delhi Blast Case: دہلی دھماکہ کیس میں این آئی اے عدالت نے چار ملزمان کی تحویل میں 10 دن کی توسیع کردی، این آئی اے نے مزید تفتیش کیلئے مانگا ریمانڈ
دہلی میں 10 نومبر کو لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے نزدیک حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی ہنڈائی i20 گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا تھا، جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ این آئی اے کو یہ کیس حملے کے فوراً بعد وزارت داخلہ کی جانب سے سونپا گیا تھا اور یہ ادارہ مختلف ریاستی پولیس یونٹس کی مدد سے دہشت گرد گروہ کے تمام ارکان کا سراغ لگانے میں مصروف ہے۔
Ameer JIH condemned extremism: جماعت اسلامی ہند کے امیر نے انتہا پسندی کی مذمت کی؛ لال قلعہ دھماکے سے متعلق سیکورٹی کی ناکامی اور کمیونٹی سے متعلق فکر پر اٹھائے سوال
جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے یہاں اپنے ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہر طرح کی انتہاپسندی اور تشدد کی جماعت کی دوٹوک مذمت دہراتے ہوئے متعدد قومی مسائل پر گہری تشویش ظاہر کی، جن پر فوری حکومتی توجہ درکار ہے۔
Delhi Blast Case: دہلی بلاسٹ کیس کی جانچ ہوئی تیز، پولیس نے نجی اسپتالوں سے بیرونِ ملک سے تعلیم یافتہ ڈاکٹروں کی طلب کیں تفصیلات
شعیب اس معاملے میں گرفتار ساتواں ملزم ہے۔ اس سے قبل این آئی اے عمر کے چھ قریبی ساتھیوں کو گرفتار کرچکی ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ خودکش دھماکے سے متعلق تمام شواہد اور مشتبہ افراد تک پہنچنے کے لیے متعدد ریاستوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ این آئی اے کا مقصد ہے کہ پورا دہشت گرد نیٹ ورک بے نقاب کیا جائے اور اس کے تمام اراکین کو گرفتار کیا جائے۔
Delhi Car Bombing Probe : دہلی کار بم دھماکے کی جانچ جاری، این آئی اے نے ملزم ڈاکٹر شاہین کو پوچھ گچھ کے لیے فرید آباد کیا منتقل
دہلی کے لال قلعہ کے قریب 10 نومبر کو ہونے والے تباہ کن خودکش کار بم دھماکے کی تحقیقات میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے بڑی پیش رفت کرتے ہوئے گرفتار ملزمین میں سے ایک ڈاکٹر شاہین سعید کو اہم پوچھ گچھ کے لیے ہریانہ کے فرید آباد منتقل کر دیا ہے۔
Delhi Blast: دہلی دھماکہ، التجا مفتی نے ملزم ڈاکٹر کے خودکش حملہ آور بننے پر ظاہر کی تشویش، کہا- رائٹ ونگ والے منا رہے ہیں خوشی
10 نومبر کو دہلی کے لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ہونے والے ایک دھماکے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ شام تقریباً 6:52 بجے ہائی ٹریفک سگنل پر کھڑی سفید ہنڈائی آئی20 کار میں زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ کئی گاڑیاں جل کر راکھ ہوگئیں اور قریبی دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
Delhi Blast: دہلی دھماکہ معاملے میں این آئی اے کو بڑی کارروائی، دہشت گرد کے ایک اور اہم ساتھی کی گرفتاری
این آئی اے کی تفتیش سے یہ بھی پتہ چلا تھا کہ پمپور کے سمبورہ علاقے کا رہنے والا عامر، حملے میں استعمال ہونے والی کار خریدنے میں مدد کرنے کے لیے دہلی آیا تھا۔ اسی کار کو بعد میں دھماکے کے لیے وہیکل بیسڈ آئی ای ڈی کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔
Delhi Blast Case: دہلی دھماکہ کیس، تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارروائی، نوح سے دو گرفتار
ذرائع کے مطابق یہ نیٹ ورک نوح، فرید آباد اور دہلی تک پھیلا ہوا تھا۔ ادھر، نوح کی حیات کالونی میں اس مکان کی پولیس نے گھیرابندی کر لی ہے جہاں دہشت گرد عمر تقریباً دس دن تک کرایے پر رُکا تھا۔ یہ مکان افسانہ نامی خاتون کا بتایا جاتا ہے۔





