Bharat Express DD Free Dish

Delhi Blast Case: دہلی دھماکہ کیس، تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارروائی، نوح سے دو گرفتار

ذرائع کے مطابق یہ نیٹ ورک نوح، فرید آباد اور دہلی تک پھیلا ہوا تھا۔ ادھر، نوح کی حیات کالونی میں اس مکان کی پولیس نے گھیرابندی کر لی ہے جہاں دہشت گرد عمر تقریباً دس دن تک کرایے پر رُکا تھا۔ یہ مکان افسانہ نامی خاتون کا بتایا جاتا ہے۔

نوح: دہلی دھماکے کے معاملے میں مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں نے ہریانہ کے نوح ضلع میں بڑی کارروائی کی ہے۔ ایجنسی نے اتوار کے روز نوح کی حیات کالونی سے رضوان اور شعیب کو گرفتار کیا ہے۔ شعیب، الفلاح یونیورسٹی میں بطور الیکٹریشن کام کر چکا ہے اور دونوں پر دہشت گردوں کو فنڈنگ فراہم کرنے کا سنگین الزام ہے۔

مانا جا رہا ہے کہ یہ گرفتاریاں اس نیٹ ورک کی ایک اہم کڑی ہیں جو دھماکے میں مارے گئے دہشت گرد ڈاکٹر عمر، اس کے ساتھی ڈاکٹر مزمل اور ڈاکٹر شاہین سے جڑا ہوا تھا۔ تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ الفلاح یونیورسٹی سے وابستہ اور ان تینوں دہشت گردوں کے رابطے میں آئے تقریباً 200 افراد تحقیقاتی اداروں کی رڈار پر ہیں۔ ان میں سے کئی سے پوچھ گچھ جاری ہے جبکہ کچھ کی خفیہ نگرانی کی جا رہی ہے۔

نوح، فرید آباد اور دہلی تک پھیلا تھا نیٹ ورک

ذرائع کے مطابق یہ نیٹ ورک نوح، فرید آباد اور دہلی تک پھیلا ہوا تھا۔ ادھر، نوح کی حیات کالونی میں اس مکان کی پولیس نے گھیرابندی کر لی ہے جہاں دہشت گرد عمر تقریباً دس دن تک کرایے پر رُکا تھا۔ یہ مکان افسانہ نامی خاتون کا بتایا جاتا ہے۔ بڑی بات یہ سامنے آئی ہے کہ گرفتار شعیب اسی افسانہ کا جیجا ہے اور اسی نے عمر کو یہ کرایے کا کمرہ دلوایا تھا۔ اس کے علاوہ رضوان اس خاتون کا بھائی بتایا گیا ہے۔ انہیں حوالہ کاروبار سے بھی جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔

مکان کے باہر بھاری پولیس فورس تعینات

مکان کے باہر بھاری پولیس فورس تعینات ہے۔ تلاشی کے دوران ڈیجیٹل ثبوت قبضے میں لیے جا رہے ہیں۔ امکان ہے کہ عمر نے اسی مکان میں بیٹھ کر دہلی دھماکے کی پوری پلاننگ کی تھی۔ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس نیٹ ورک سے وابستہ مزید افراد کی گرفتاری ممکن ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read