Bharat Express DD Free Dish

Who is advocate Madhav Khurana: کون ہیں مادھَو کُھرانا؟ دہلی دھماکے کے معاملے پر عدالت میں بنیں گے این آئی اے کا چہرہ ؛ مرکز نے کی تقرری

مرکز نے لال قلعہ کار دھماکے کے معاملے میں سینئر وکیل مادھو کُھرانا کو خصوصی سرکاری وکیل مقرر کیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ یہ کون ہیں۔

وزارت داخلہ نے سینئر ایڈووکیٹ مادھو کُھرانا کو لال قلعہ کار دھماکے کے معاملے کے لیے خصوصی سرکاری وکیل مقرر کیا ہے۔ انہیں اس مقدمے کی سماعت اور دیگر قانونی کارروائیوں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کھرانا کو قومی تفتیشی ایجنسی کی جانب سے تین برس کے لیے خصوصی سرکاری وکیل مقرر کیا گیا ہے۔مرکز نے مادھو کھرانا کو این آئی اے اسپیشل کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی طرف سے خصوصی سرکاری وکیل مقرر کیا ہے۔ یہ تقرری تین سال کے لیے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ایکٹ 2008 کی دفعہ 15 کی ذیلی دفعہ (1) اور انڈین سول ڈفینس کوڈ 2023 کی دفعہ 18 کی ذیلی دفعہ (8) کے تحت دیے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کی گئی ہے۔

قانونی حلقوں میں معروف نام

مادھو کھرانا دہلی کے قانونی حلقوں میں ایک جانا مانا نام ہیں۔ وہ بنیادی طور پر فوجداری مقدمات کے وکیل ہیں اور وائٹ کالر کرائم، قتل، ہتکِ عزت اور انسدادِ بدعنوانی قوانین (PMLA) سے متعلق معاملات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

حکومت کوئی نرمی نہیں چاہتی

مادھو کھرانا کی تقرری اس کیس کو مضبوط بنانے میں مدد کرے گی، کیونکہ وہ ایک تجربہ کار دفاعی وکیل ہیں اور جانتے ہیں کہ ملزم کہاں سے بچنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ان کی تقرری ظاہر کرتی ہے کہ حکومت عدالت میں کوئی نرمی نہیں برتنا چاہتی۔

نیویارک اور پونے میں تعلیم

مادھو کھرانا کاتعلیمی پس منظر انتہائی مضبوط ہے، جو انہیں ملک کے ٹاپ وکیلوں میں شامل کرتا ہے۔ انہوں نے پونے کے معروف آئی ایل ایس لا کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور امریکا کے مشہور کولمبیا لا اسکول، نیویارک سے قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

مادھو کھرانا کے کیریئر کی شروعات

مادھو کھرانا نے اپنے کیریئر کی شروعات ملک کی معروف فوجداری وکیل سینئر ایڈووکیٹ ربیکا جان کے چیمبر سے کی تھی۔ کئی برس تک ان کے ساتھ کام کرنے کے بعد انہوں نے اپنی آزادانہ پریکٹس شروع کی۔ وہ دہلی دنگوں، کوئلہ گھپلہ اور 2G کیس جیسے کئی ملک گیر شہرت رکھنے والے معاملات میں وکیل رہ چکے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read