Bharat Express DD Free Dish

Red Fort blast update

لال قلعہ کار بلاسٹ کیس کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے این آئی اے کی درخواست پر ڈاکٹر مُزمل سمیت دیگر گرفتار ملزمین کی ریمانڈ میں چار دن کی توسیع کر دی ہے۔

دہلی کے لال قلعہ کے قریب 10 نومبر کو ہونے والے تباہ کن خودکش کار بم دھماکے کی تحقیقات میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے بڑی پیش رفت کرتے ہوئے گرفتار ملزمین میں سے ایک ڈاکٹر شاہین سعید کو اہم پوچھ گچھ کے لیے ہریانہ کے فرید آباد منتقل کر دیا ہے۔

افسران کے مطابق، ان افراد کو ایک خصوصی ٹیم نے خفیہ آپریشن کے دوران شہر کے مختلف مقامات سے گرفتار کیا ہے۔ پوچھ گچھ کے بعد انہیں مزید تفتیش کے لیے دہلی بھیجا جا رہا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کہا کہ دہلی بم دھماکوں کے قصورواروں کو سخت ترین سزا دی جائے گی تاکہ کوئی بھی اسے دہرانے کی ہمت نہ کرے۔ وزیر داخلہ آن لائن میڈیم کے ذریعے سے گجرات کے ایک اسکول کی افتتاحی تقریب کو خطاب کر رہے تھے۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے دہلی کے لال قلعے کے قریب ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند مجرموں کی حرکتوں کی سزا پوری وادی کے عوام کو نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کشمیری کو دہشت گرد قرار دینا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ سوچ ملک کے اتحاد و امن کے لیے نقصان دہ ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دہلی دھماکے کے حوالے سے ایک اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے بھارت اور افغانستان دونوں کو کھلی دھمکی دے ڈالی۔ انہوں نے کہا، ”کل تک یہ ایک گیس سلنڈر کا دھماکہ تھا اور آج وہ اسے غیر ملکی سازش قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت کسی بھی وقت پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے، لیکن ہم دو محاذوں پر لڑنے کے لیے تیار ہیں“۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے بتایا کہ ریاست میں ان افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جنہوں نے سوشل میڈیا پر دہلی دھماکے کے حق میں یا ملک مخالف تبصرے کیے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ”دہلی بم دھماکوں کے بعد قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹ کے معاملے میں آسام بھر سے اب تک 15 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے“۔

ترکیہ کے کمیونیکیشن ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "یہ دعویٰ کہ ترکیہ ہندوستان یا کسی دوسرے ملک کو نشانہ بنانے والی بنیاد پرست سرگرمیوں میں ملوث ہے،

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ عمر فرید آباد، لکھنؤ اور جنوبی کشمیر کے درمیان کام کرنے والے جیش محمد کے لاجسٹک ماڈیول سے وابستہ تھے۔ یہ ماڈیول تقریباً 9 سے 10 ممبران پر مشتمل تھا ،جس میں 5 سے 6 ڈاکٹرز شامل تھے۔

مرکز کی مودی حکومت نے دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب پیش آئے کار دھماکے کو باقاعدہ طور پر دہشت گردانہ واردات قرار دے دیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت بدھ کو منعقدہ کابینہ اجلاس میں اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور جاں بحق افراد کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ حکومت نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تفتیشی ایجنسیوں کو جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔