Red Fort bomb blast two friends death story: دو دوستوں کی طویل عرصے بعدہو رہی تھی ملاقات، ملتے ہی ہوئی دونوں کی دردناک موت
امروہہ کے منگریلا گاؤں کے رہائشی اشوک کمار دہلی میں ڈی ٹی سی بس میں کنڈکٹر کا کام کرتے تھے، جبکہ لوکیش حسن پور میں کھاد فروش تھے۔ دونوں دوست لال قلعے کے نزدیک سے گزر ہی رہے تھے کہ ان کے سامنے والی کار میں دھماکہ ہو گیا۔
Bangladesh Awami League On Delhi Blast : دہلی دھماکے پر بنگلہ دیش عوامی لیگ کا اظہار افسوس، پاکستان کو ٹھہرایا ذمہ دار
بھارت کے دارالحکومت دہلی میں لال قلعے کے قریب ہونے والے خوفناک دھماکے پر بنگلہ دیش کی جماعت عوامی لیگ کی طلبہ شاخ بنگلہ دیش اسٹوڈنٹس لیگ نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تنظیم نے اسے پاکستان کی پشت پناہی یافتہ انتہاپسند گروپوں کی کارستانی قرار دیتے ہوئے اسے "خطے کو غیر مستحکم کرنے والی کارروائی" قرار دیا۔
لکھنؤ تک پہنچی دہلی بم دھماکے کی جانچ، سابق لیکچرر ڈاکٹر شاہین سعید گرفتار، کار سے ملی تھی اے کے-47
ڈاکٹر شاہین سعید، کانپور کے جی ایس وی ایم میڈیکل کالج کے فارماکولوجی ڈپارٹمنٹ میں سات سال تک لیکچرر رہ چکی ہیں۔ سال 2013 میں وہ بغیر اطلاع کے نوکری سے غائب ہو گئیں، جس کے بعد انہیں متعدد نوٹس بھیجے گئے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بالآخر 2021 میں حکومت نے انہیں برطرف کر دیا۔
Blast near Red Fort was not a suicide attack: لال قلعہ کے قریب دھماکہ خودکش حملہ نہیں تھا، خوف کے باعث ملزم نے فوری طور پر دھماکہ کیا، ابتدائی تحقیقات میں انکشاف
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے معاملے کی تفتیش این آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے اور فورینزک سائنس لیبارٹری کو دھماکہ خیز مواد اور مقام حادثہ سے جمع کیے گئے نمونوں کی فوری جانچ کی ہدایت دی ہے۔





