نئی دہلی: لال قلعہ کے قریب ہونے والے کار دھماکے کی ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ واقعہ ایک روایتی خودکش حملہ نہیں تھا، بلکہ مبینہ طور پر ملزم نے گھبراہٹ اور دباؤ کے باعث دھماکہ وقت سے پہلے کر دیا۔ سکیورٹی ایجنسیاں اس واقعے کی مختلف زاویوں سے جانچ کر رہی ہیں اور ملک کے کئی مقامات پر چھاپے مار کر بڑی مقدار میں بارودی مواد ضبط کیا گیا ہے۔
دھماکہ خودکش حملوں کے عام انداز سے مختلف تھا
ذرائع کے مطابق ملزم نے گاڑی کو کسی ہدف میں ٹکرانے کی کوشش نہیں کی، جو کہ خودکش کار بم حملوں کا عام طریقہ ہوتا ہے۔ دھماکے کے مقام پر نہ کوئی گہرا گڑھا ظاہر ہوا اور نہ ہی دھماکے میں استعمال ہونے والا کوئی دھات کا چھرا یا تیز دھار مواد ملا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ای ڈی مکمل طور پر تیار نہیں تھی اور دھماکہ انتہائی تباہ کن نوعیت کا نہیں تھا۔ گاڑی دھماکے کے وقت چل رہی تھی اور ممکنہ طور پر ملزم نے گرفتاری کے خدشے یا دباؤ میں آکر دھماکہ وقت سے پہلے کر دیا۔
سکیورٹی ایجنسیوں کے چھاپے، بڑا حملہ ٹل گیا
حکام کے مطابق فریدآباد، سہارنپور، پلوامہ اور دیگر علاقوں سے بارودی مواد برآمد ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک گیر چوکس کارروائیوں کی بدولت ایک بڑے حملے کو ناکام بنایا جا سکا۔
ملزم کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے معاملے کی تفتیش این آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے اور فورینزک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کو دھماکہ خیز مواد اور مقام حادثہ سے جمع کیے گئے نمونوں کی فوری جانچ کی ہدایت دی ہے۔ امت شاہ نے منگل کو اپنے رہائش گاہ پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں داخلہ سکریٹری، انٹیلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر، این آئی اے چیف، دہلی پولیس کمشنر اور جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا: ’’اس واقعے میں ملوث ہر فرد کو تلاش کر کے سخت ترین کارروائی کی جائے۔ کوئی بھی ذمہ دار بخشا نہیں جائے گا۔‘‘
ہلاکتیں اور تفتیش کی موجودہ صورتحال
دھماکہ پیر کی شام لال قلعہ کے قریب سبھاش مارگ کے ٹریفک سگنل پر ایک چلتی ہوئی ہنڈائی i20 گاڑی میں ہوا، جس میں آٹھ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ این آئی اے اب اس معاملے کی مکمل تفتیش کرے گی، جس میں دھماکے میں استعمال ہونے والے مواد، ممکنہ دہشت گرد روابط اور منصوبہ بندی کے تمام پہلو شامل ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
