Bharat Express DD Free Dish

Delhi Blast

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں لال قلعے کے قریب ہونے والے خوفناک دھماکے پر بنگلہ دیش کی جماعت عوامی لیگ کی طلبہ شاخ بنگلہ دیش اسٹوڈنٹس لیگ نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تنظیم نے اسے پاکستان کی پشت پناہی یافتہ انتہاپسند گروپوں کی کارستانی قرار دیتے ہوئے اسے "خطے کو غیر مستحکم کرنے والی کارروائی" قرار دیا۔

ڈاکٹر شاہین سعید، کانپور کے جی ایس وی ایم میڈیکل کالج کے فارماکولوجی ڈپارٹمنٹ میں سات سال تک لیکچرر رہ چکی ہیں۔ سال 2013 میں وہ بغیر اطلاع کے نوکری سے غائب ہو گئیں، جس کے بعد انہیں متعدد نوٹس بھیجے گئے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بالآخر 2021 میں حکومت نے انہیں برطرف کر دیا۔

وزیراعظم نریندرمودی نے بھوٹان سے لوٹ کردہلی دھماکہ کے زخمیوں سے ایل این جے پی اسپتال میں ملاقات کی۔ دہلی پولیس نے یواے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا ہے، جس کی جانچ این آئی اے کو سونپی گئی ہے۔

الفلاح یونیورسٹی نے کہا کہ وہ تمام تنظیموں اور دیگر پر زور دینا چاہتی ہے کہ وہ ہماری یونیورسٹی سے متعلق کسی بھی معلومات کو کسی بھی پلیٹ فارم کے ذریعے شیئر کرنے سے پہلے اس کی سچائی کی تصدیق کریں۔ بغیر تصدیق کے ہماری یونیورسٹی سے متعلق کوئی بھی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں۔

دہلی پولیس، این آئی اے اور ہریانہ پولیس اس معاملے کی مشترکہ تفتیش کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر محمد عمر کو اس دھماکے کا ممکنہ ماسٹر مائنڈ مانا جا رہا ہے اور ایجنسیاں یہ جاننے میں مصروف ہیں کہ آیا اس کے پیچھے کوئی بڑا بین الاقوامی نیٹ ورک تو سرگرم نہیں۔ تحقیقات کا دائرہ اب جموں و کشمیر، دہلی اور ہریانہ تک پھیل چکا ہے۔

دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب پیر 10 نومبر کی شام ہونے والے خوفناک دھماکے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اب اس واقعے کی تفتیش ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں اب اس معاملے کی ڈور فریدآباد کے دھوج علاقے تک لے گئی ہیں، جہاں الٰفلاح یونیورسٹی پولیس کے رڈار پر ہے۔

پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر عمر النبی مبینہ طور پر اُس کار میں موجود تھا جو دہلی کے لال قلعہ کے قریب دھماکے کا شکار ہوئی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں عمر کو گاڑی چلاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق فرید آباد کے ایک دہشت گرد نیٹ ورک سے بھی ہو سکتا ہے۔

قومی دارالحکومت دہلی سے متصل ہریانہ کے شہر فریدآباد میں دہشت گردی سے وابستہ سرگرمیوں پر پولیس اور خفیہ ایجنسیوں نے مسلسل دوسرے روز بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ کرائم برانچ نے کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 50 سے 60 کلو دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا ہے، جبکہ دو مشتبہ افراد کو موقع سے گرفتار کیا گیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ’تمام امکانات‘ پر غور کیا جا رہا ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ امت شاہ نے بتایا کہ دہلی میں پیر کو شام 7 بجے لال قلعہ کے قریب سبھاش مارگ ٹریفک سگنل پر ایک ہنڈائی آئی-20 کار میں دھماکہ ہوا، جس میں چند پیدل چلنے والے زخمی ہوئے اور کچھ گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

دہلی میں پیرکے روز ہوئے کار دھماکہ کے حادثہ پروزیراعظم نریندرمودی نے اپنا ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں متاثرہ خاندان کے ساتھ ہوں اور قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔