قومی دارالحکومت دہلی میں لال قلعے کے نزدیک پیر کے روز ہونے والے خوفناک کار دھماکے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سیکرٹری ترن چُگھ نے بدھ کے روز اس معاملے پر کانگریس اور نیشنل کانفرنس (این سی) کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کی خاموشی کو شرمناک قرار دیا۔ دہلی بم دھماکے کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک ہنڈائی آئی 20 کار میں امونیم نائٹریٹ سے بھرا دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا، جس میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔ بی جے پی کے جنرل سکریٹری ترن چُگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کر کے کانگریس اور عبداللہ خاندان پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے گاندھی اور عبداللہ خاندان کی خاموشی کو حیران کن اور انتہائی شرمناک قرار دیا۔
’گاندھی اور عبداللہ خاندان کی خاموشی حیران کن‘
چُگھ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ، ’’ لال قلعے میں ہونے والے بہیمانہ دھماکے پر گاندھی اور عبداللہ خاندان کی خاموشی حیران کن ہے۔ کانگریس یاسین ملک جیسے شدت پسندوں سے سازباز کرنے اور آئی ایس آئی کی زبان بولنے کے لیے جانی جاتی ہے۔‘‘
10 افراد کی ہلاکت پر خاموشی شرمناک
انہوں نے مزید کہا کہ حیرت کی بات نہیں کہ ملکارجن کھڑگے اور سونیا گاندھی دہلی میں ہونے والے دہشت گردانہ دھماکے پر خاموش ہیں۔ عبداللہ خاندان بھی دھماکے کی مذمت کرنے سے کترا رہا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ رویہ نہایت شرمناک ہے۔
لال قلعہ کے گیٹ نمبر 1 پر دھماکہ
تفصیلات کے مطابق پیر کی شام تقریباً 6 بج کر 50 منٹ پر لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 1 کے نزدیک یہ دھماکہ ہوا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ کار ٹریفک سگنل پر رکی ہوئی تھی اور اچانک زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اردگرد کی 12 گاڑیاں جل گئیں، کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور آواز سو میٹر دور تک سنی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


