Bharat Express DD Free Dish

CWC Meeting

کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی حالیہ میٹنگ میں مغربی ایشیا بحران، پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس اور خواتین ریزرویشن و حلقہ بندی جیسے اہم سیاسی مسائل پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں حکومت کی خارجہ پالیسی اور پارلیمانی طریقۂ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے، جس کے بعد سیاسی بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کانگریس پارٹی بہار میں وہی کامیاب حکمتِ عملی اپنانا چاہتی ہے جو 2023 میں تلنگانہ میں اپنائی گئی تھی، جہاں سی ڈبلیو سی میٹنگ کے بعد پارٹی کو زبردست کامیابی ملی تھی۔

میٹنگ ختم ہونے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس لیڈر سچن پائلٹ نے کہا کہ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ وقت ضائع کیے بغیر ذات پات کی مردم شماری مقررہ مدت کے اندر کرائی جائے۔ تاکہ فلاحی اسکیموں کے نفاذ میں شفافیت ہو۔

سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے، سی پی پی چیئرپرسن سونیا گاندھی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈراور پارٹی کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی، پارٹی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا، کانگریس جنرل سکریٹری ڈاکٹرسید ناصر حسین، امبیکا سونی اورسلمان خورشید سمیت  دیگرکانگریس لیڈران موجود رہے۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ وہ سردار پٹیل کی راہ پر چل کر کسانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے، ’نفرت چھوڑو-بھارت جوڑو‘ کی راہ پر بڑھنے اور فرقہ وارانہ اشتعال کو روکنے کے مقصد سے جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہے۔

میٹنگ میں راہل گاندھی نے لیڈروں سے ہمت نہ ہارنے کی اپیل کی۔ اس دوران راہل گاندھی نے کہا کہ صرف ای وی ایم ہی سوالیہ نشان نہیں ہے، پورا انتخابی نظام شک کے دائرے میں ہے اور الیکشن کمیشن غیر جانبدارانہ کردار ادا نہیں کر رہا ہے۔

کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیوسی) میٹنگ میں پارٹی کے جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ ہندوستان کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے بجائے روایتی بیلیٹ پیپر پرلوٹنا چاہئے۔

کانگریس صدر نے کہا کہ حالیہ انتخابی نتائج یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہمیں ریاستوں میں اپنی انتخابی تیاریوں کو کم از کم ایک سال پہلے سے شروع کر دینا چاہیے۔ ہماری ٹیموں کو وقت سے پہلے میدان میں موجود ہونا چاہیے۔

سونیا گاندھی نے ہفتہ کو وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی کو لوک سبھا انتخابات میں "سیاسی اور اخلاقی شکست" کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ قیادت کا حق کھو چکے ہیں۔

کے سی وینوگوپال نے کہا کہ انڈیا الائنس نے اتر پردیش، مغربی بنگال، تمل ناڈو اور مہاراشٹر میں پارٹنر پارٹیوں کی مدد سے اپنا پرچم بلند کیا۔ 18ویں لوک سبھا میں انڈیا الائنس کا اہم حصہ ہوگا۔