Bharat Express DD Free Dish

Crown Prince Mohammed bin Salman

خبر یہ بھی ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے سعودی عرب میں ملاقات کریں گے۔عرب نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ملاقات کے حوالے سے یہ اعلان روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ٹیلی فون پر 90 منٹ کی گفتگو کے بعد کیا۔

سعودی عرب نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مؤقف کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت کا طویل مدت سے یہی نظریہ ہے کہ فلسطینیوں کی ایک خودمختار ریاست ہونی چاہیے اور یہ ایک پختہ مؤقف ہے جس پر مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔

نئے رہنما اصولوں کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری صرف لسٹڈ کمپنیوں کے حصص یا قابل تبدیلی قرضے تک محدود ہے۔ کسی بھی کمپنی کے حصص میں مجموعی غیر سعودی ملکیت، جس میں افراد اور قانونی ادارے شامل ہیں، کو 49 فیصد تک محدود رکھا گیا ہے۔

ٹرمپ نے دنیا بھر کے تاجروں کو واضح پیغام دیا کہ وہ اپنے مینوفیکچرنگ آپریشنز کو امریکہ لے آئیں ورنہ ٹیرف میں اضافے کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ٹرمپ نے کہاکہ دنیا کے ہر کاروبار کے لیے میرا پیغام بہت سادہ ہے۔ آئیں اور امریکہ میں اپنی مصنوعات بنائیں۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو میں ولی عہد نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی متوقع اصلاحات ’بے مثال معاشی خوشحالی‘ پیدا کر سکتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ اس کی سرمایہ کاری ان شرائط سے فائدہ اٹھائے۔

سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے سپریم کمیشن فار ہوسٹنگ دی 2034 ورلڈ کپ‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔فیفا کی جانب سے ورلڈ کپ 2034 کی میزبانی کا باقاعدہ اعلان ہونے کے بعد ولی عہد کی جانب سے سپریم میزبان کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے  سلامتی کونسل سے اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری فلسطینیوں کیخلاف یہودی آباد کاروں کی جاری دہشت گردی روکنے میں مدد کرے۔

فلسطینیوں اور لبنانیوں کے ساتھ سعودی عرب کی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم فلسطینیوں اور لبنانیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔لبنان کی صورتحال کے تناظر میں شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کو مسترد کرتا ہے۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اشارہ دیا تھا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ امریکہ ایک عرصے سے ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں مصروف تھا۔

غزہ-اسرائیل جنگ بندی کے درمیان اسرائیل نے غزہ-مصرکاریڈور سے متعلق ایک ایسی شرط رکھ دی ہے، جس پراب سعودی عرب نے بھی اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ اسرائیل کی اس شرط کے خلاف سعودی عرب نے مصرکی مکمل حمایت کی ہے۔