Bharat Express DD Free Dish

Congress

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ شمال مشرق کی سب سے بڑی تکلیف ہمیشہ فاصلے کی رہی ہے—دلوں کے فاصلے اور مقامات کے فاصلے۔ دہائیوں تک یہاں کے لوگوں کو محسوس ہوتا رہا کہ ملک کی ترقی کہیں اور ہو رہی ہے اور وہ پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس کا اثر صرف معیشت پر نہیں بلکہ اعتماد پر بھی پڑا۔ اس احساس کو بدلنے کا کام بی جے پی نے کیا ہے۔

کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے چیئرمین اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کی دن رات کی محنت نے واضح کر دیا کہ ملک کے عوام بالخصوص نوجوان نسل عمران پرتاپ گڑھی پر بھروسہ کرتے ہیں اور انہیں پسند کرتے ہیں۔

انتخابی کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 55 فیصد ووٹنگ درج کی گئی، جو گزشتہ انتخابات کے آس پاس ہی رہی۔ دادر، پریل اور بوریولی جیسے سیاسی طور پر سرگرم علاقوں میں لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں،

مہاراشٹر کی سیاست کے لیے کل کا دن انتہائی اہم ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سمیت ریاست کی 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کی ووٹوں کی گنتی صبح 10 بجے سے شروع ہوگی۔

مہاراشٹر میں طویل انتظار کے بعد بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ جمعرات کو مکمل ہو گیا۔ ریاست کی سب سے بڑی بلدیہ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سمیت مجموعی طور پر 29 میونسپل کارپوریشنوں میں ووٹنگ کرائی گئی، جس میں رائے دہندگان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

جے رام رمیش نے کہا کہ آنے والے مرکزی بجٹ کو اس سوال کا براہِ راست جواب دینا چاہیے کہ کمپنیاں پیداوار بڑھانے میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مالیاتی منڈیوں میں اثاثہ جات کے انتظام پر زیادہ توجہ کیوں دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق ملک کے سرمایہ کاری ماحول کو ایک بڑے “بوسٹر ڈوز” کی ضرورت ہے۔

کانگریس نے آئندہ انتخابات سے قبل ایک بڑا فیصلہ لیا ہے۔ پارٹی نے طے کیا ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں 50 فیصد حصہ ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتی برادریوں کو دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی ترجمانوں کے انتخاب میں بھی محروم طبقات کو ترجیح دی جائے گی۔

کرناٹک میں بی جے پی نے منگل کے روز کانگریس پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس نے جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کے ریاستی دورے کے دوران سفارتی آداب کو نظرانداز کیا اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی میسور آمد کو فوقیت دی۔

ممبئی بی ایم سی انتخابات میں بی جے پی 137 نشستوں پر، شندے گروپ 90 نشستوں پر، ادھو سینا 150 نشستوں پر اور منسے 70 نشستوں پر میدان میں اتری ہے۔ کانگریس اتحاد نے مجموعی طور پر 195 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ 32 نشستوں پر براہِ راست مقابلہ ہوگا۔

وارث پٹھان نے الزام لگایا کہ کانگریس کی نیت اور سوچ صاف ظاہر ہو رہی ہے، کیونکہ پارٹی کو مسلمانوں کی سیاسی قیادت یا ان کے سیاسی بااختیار ہونے سے کوئی حقیقی سروکار نہیں ہے