Bharat Express DD Free Dish

Congress

ریاست کرناٹک کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر کرناٹک ہائی کورٹ نے باگے پلی اسمبلی حلقے سے منتخب کانگریس کے رکن اسمبلی ایس این سبا ریڈی کے انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ بی جے پی امیدوار سی منی راجو کی جانب سے دائر انتخابی عرضی پر سنایا، جس میں نامزدگی فارم میں مبینہ بے ضابطگیوں، جائیداد چھپانے اور غلط حلف نامہ داخل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

آسام کانگریس کے ذمہ دار بھنور جیتندر سنگھ نے کہا کہ بھوپن بورا نے اپنا استعفیٰ واپس لیا کیونکہ پارٹی قیادت اور راہول گاندھی سمیت دیگر سینیئر لیڈروں نے ان سے طویل بات چیت کی اور اختلافات کو حل کیا۔ بھوپن بورا کانگریس خاندان کے اہم رکن ہیں

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کانگریس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدوں سے بھارتی کسانوں کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے ہر معاہدے میں زراعت، ڈیری اور ماہی گیری کے شعبوں کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا ہے اور کسی بھی طبقے کو غیر محفوظ نہیں چھوڑا گیا۔

راہل گاندھی نے سابق فوجیوں کے مسائل کو لے کر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق فوجیوں کی تکالیف سن کر ان کا دل بے چین ہو گیا اور موجودہ حکومت کے فیصلوں نے لاکھوں سابق فوجیوں کے علاج اور وقار کو متاثر کیا ہے۔

وزیراعظم مودی نے آسام کے گوہاٹی میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پارٹی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اقتدار سے باہر ہونے کے بعد کانگریس مزید زہریلی ہو گئی ہے، اس لیے آسام کے عوام کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے جمعرات کو الزام عائد کیا کہ کانگریس اراکین پارلیمنٹ نے زبردستی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے چیمبر میں داخل ہو کر توہین آمیز زبان استعمال کی اور دھمکی دی۔

طویل بحث کے بعد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بدھ کے روز لوک سبھا میں تقریرکی۔ انہوں نے بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پربات کی اورحکومت پرتنقید کی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بھارت نے امریکہ کے دباؤ میں یہ معاہدہ کیا اورسب کچھ امریکہ کوبیچ دیا گیا۔

سال 2008 میں طے پانے والا بھارت-امریکہ سول نیوکلیئر معاہدہ ایک بار پھر سیاسی اور اسٹریٹجک بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر سال 2009 کے ایک امریکی سرکاری دستاویز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ آیا اس وقت کی UPA حکومت نے بھارت کے سِول نیوکلیئر پروگرام کو بین الاقوامی ادارے IAEA کی مستقل نگرانی میں دے کر ملک کی خودمختاری پر سمجھوتہ کیا تھا۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا، ”میں انہیں کچھ نہیں سکھا سکتا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وہ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ کون سا نظریہ ان کے کاموں کوچلاتا ہے؟“

راہل گاندھی کے دستخط نہ کرنے کے معاملے پر نیوز ایجنسی اے این آئی نے کانگریس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پارلیمانی جمہوریت میں قائدِ حزبِ اختلاف کا اسپیکر کو عہدے سے ہٹانے کے نوٹس پر دستخط کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ اسی وجہ سے راہل گاندھی نے اس نوٹس پر دستخط نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔