Bharat Express DD Free Dish

Congress

نتائج کے بعد اپوزیشن کے اہم رہنما اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کے کچھ لوگ اور دیگر افراد ٹی ایم سی کی شکست پر خوشی منا رہے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ معاملہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کے جمہوری نظام سے جڑا ہوا ہے۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کانگریس نے پانچوں ریاستوں میں مجموعی طور پر 461 امیدوار میدان میں اتارے تھے، لیکن رجحانات کے مطابق پارٹی صرف تقریباً 91 نشستوں پر آگے چل رہی ہے، جو کہ مجموعی نشستوں کا قریب 20 فیصد بنتا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا کانگریس بتدریج اپنی قومی حیثیت کھو رہی ہے۔

آسام اسمبلی انتخابات 2026 کے لیے ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو صبح 7 بجے شروع ہوگی۔ 126 سیٹوں پر 722 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ چند گھنٹوں میں ہو جائے گا۔

اجے رائے نے طبیعت بگڑنے سے قبل شام کے وقت میڈیا سے گفتگو بھی کی تھی، جس میں انہوں نے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا،

راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں بی جے پی اور آر ایس ایس پر الزام لگایا تھا کہ وہ ملک کے اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس آئین اور ملک کی بنیادی روح کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہے۔

سروے کے مطابق 126 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کو 88 سے زائد نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو اسے باآسانی اکثریت کی حد سے آگے لے جاتا ہے۔ دوسری جانب انڈین نیشنل کانگریس کو تقریباً 31 نشستیں ملنے کی امید ہے، جبکہ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کو 4 نشستیں مل سکتی ہیں۔ دیگر امیدواروں کے حصے میں 3 نشستیں جانے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

سروے کے مطابق 140 رکنی اسمبلی میں یو ڈی ایف کو تقریباً 83 نشستیں ملنے کی امید ہے۔ دوسری جانب لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کو 54 نشستیں مل سکتی ہیں، جبکہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو محض 3 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 21 نشستوں پر سخت مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، جہاں نتائج کسی بھی طرف جا سکتے ہیں۔

میئر کے اس انتخاب میں اس بار عام آدمی پارٹی نے حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے باعث مقابلہ براہ راست بی جے پی اور کانگریس کے درمیان محدود ہو کر رہ گیا۔ تاہم، عام آدمی پارٹی کی غیر موجودگی نے بی جے پی کے لیے راستہ مزید ہموار کر دیا اور نتیجہ یکطرفہ رہا۔

وزیر اعظم مودی نے اتر پردیش کے ضلع ہر دوئی میں گنگا ایکسپریس وے کے افتتاح کے موقع پر ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی اور کانگریس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جماعتیں کبھی بھی خاندانی سیاست اور ذات پات کی تنگ نظری سے اوپر نہیں اٹھ سکتیں اور ان کی سیاست ہمیشہ ترقی مخالف رہی ہے۔

ادت راج نے اس رویے کو جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی رہنما خود ہی الزام عائد کرے اور خود ہی فیصلہ سنانے لگے تو پھر عدالتی عمل کی اہمیت کیا رہ جائے گی۔