Bharat Express DD Free Dish

Congress

سیاسی مبصرین کے مطابق بی کے ہری پرساد کو پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان ایک متوازن اور غیر جانبدار شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔ انہیں کانگریس ہائی کمان کی پسندیدہ قیادت میں شمار کیا جاتا ہے، جس کے باعث ان کی تقرری کو ریاستی تنظیم میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ڈی کے شیوکمارنے کرناٹک کے 25ویں وزیراعلیٰ کے طورپرحلف لیا۔ پارٹی صدرملیکا ارجن کھڑگے، راہل گاندھی، سابق وزیراعلیٰ سدارامیا سمیت کئی دیگراہم لیڈران موجود تھے۔ یہ حلف برداری تقریب سدارامیا کے استعفیٰ کے بعد منعقد کی گئی۔

ڈی کے شیوکمار کے حامیوں نے انہیں آئندہ وزیر اعلیٰ قرار دیتے ہوئے پوسٹرز لگانا اور سوشل میڈیا پر مبارکبادی پیغامات شیئر کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حالانکہ، کانگریس پارٹی کی جانب سے اب تک قیادت کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی دففتری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ذریعہ اعلان کئے قانون ساز کونسل کے الیکشن کے لئے 11 جون تک امیدوار اپنا نام واپس لے سکیں گے جبکہ 18 جون کو صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک ووٹنگ کرائی جائے گی۔ 20 جون 2026 تک پورے الیکشن کا عمل مکمل کرلیا جائے گا۔

جولائی 2024 میں، آل انڈیا مہیلا کانگریس کی صدرالکا لانبا کی قیادت میں، جنترمنتر پراحتجاج کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں سزا پر 5 جون کوبحث ہوگی۔

ششی تھرور کے مطابق بھارت نے اس نازک وقت میں کسی سیاسی اختلاف کو اہمیت دیے بغیر فوری طور پر لاکھوں لیٹر پینے کا پانی مالدیپ بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس امداد کے بدلے کوئی شرط عائد نہیں کی اور یہی وہ طرز عمل ہے جو حقیقی اعتماد پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق ممالک کے درمیان تعلقات صرف سفارتی بیانات سے نہیں بلکہ عملی تعاون سے مضبوط ہوتے ہیں۔

مرکزی وزیر پیوش گوئل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل پوسٹ جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی عام سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک سنگین سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق کانگریس اور اپوزیشن جماعتیں ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اقلیتی مشاورتی کونسل کی میٹنگ کے دوران ملک بھر کے اقلیتی لیڈروں کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی نفرت کی سیاست کے دن جلد ختم ہونے والے ہیں۔ ملک میں جو معاشی بحران آنے والا ہے، وہ بی جے پی کی نفرت کی سیاست کے گھٹنے ٹیک دے گا۔

 کانگریس نے کہا کہ ایک طرف دنیا بھر کی حکومتیں اپنی عوام کو راحت فراہم کر رہی ہیں، جبکہ یہاں حکومت عوام کو ہی لوٹنے میں لگی ہے۔ پارٹی نے اپنے حملے کو جاری رکھتے ہوئے لکھا کہ کبھی تو عوام کی بھلائی کے بارے میں سوچ لو، آخر کب تک سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچاتے رہو گے؟

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق انتخابی عمل یکم جون سے شروع ہوگا۔ اسی دن سے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی داخل کر سکیں گے۔ نامزدگی فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 جون مقرر کی گئی ہے، جبکہ 9 جون کو کاغذات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ امیدوار 11 جون تک اپنے نام واپس لے سکیں گے۔